ناظرین ۔۔
شہید رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کےجنازے کی تقریبات ختم ہونےسےپہلےہی ایران اور امریکا کےدرمیان موجود امن کی مفاہمتی یاداشت ختم ہوگٗیی ہے اور ایک بارپھر ایران اور امریکا کےدرمیان جنگ چھڑچکی ہے۔۔
امن کی ساری باتیں اس وقت ہوامیں اڑ گییں جب امریکا نے ایران پر حملے شروع کیے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میرے خیال میں ایران کے ساتھ ایم اویو ختم ہو چکا ہے، ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی ختم ہو گئی، ایرانیوں سے ڈیل نہیں کرنا چاہتا۔ترکیہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانیوں کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتے، میں ایران کے ساتھ اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وزیرِ خزانہ بیسنٹ کو کہا ہے کہ اسپین کے ساتھ تمام تجارت منقطع کر دیں۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ میں اسپین کے ساتھ کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نیٹو نے ایران کے خلاف ہماری مدد نہیں کی، گرین لینڈ اور ایران کے معاملے پر نیٹو سے خوش نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں نیٹو میں غیر منصفانہ سلوک کا سامنا ہے، ہم اسے غیر متناسب طور پر ادائیگی کرتے ہیں، میں نیٹو سے ناراض ہوں۔
ناظرین۔۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بندر عباس پر حملوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر کےایران پرحملوں کی گویا تصدیق کردی ہے،ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جنوبی ایران کے شہر بندر عباس میں ہونے والے امریکی حملوں اور دھماکوں کی ویڈیو فوٹیج شیئر کی ہے۔ویڈیو میں بندر عباس میں مختلف مقامات پر دھماکوں اور فضائی حملوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں
ناظرین ۔۔۔گزشتہ روز امریکا نے یہ حملے ایسے وقت کیے جب لاکھوں ایرانی سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات میں شرکت کے لیے سڑکوں پر موجود ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس، سیریک اور جزیرہ قشم میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔الجزیرہ نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ جزیرہ قشم میں کم از کم 6، سیریک میں 7 سے 9 جبکہ بندر عباس میں 10 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج نے ایران میں حالیہ حملوں کے دوران 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، یہ حملے آبنائے ہرمز میں 3 بحری جہازوں پر تہران کے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔دوسری جانب تہران نے تجارتی جہازوں پر حملوں سے متعلق خبروں اور بیانات کو مشکوک الزامات قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
ناظرین۔۔
اس بارایران پرحملوں میں نیٹوبھی امریکا کےساتھ کھڑاہواہے اور لگ رہاہے پورایورپ اب امریکاکی حمایت کرنے کوتیارہے،،نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایران پر امریکی حملوں کو ناگزیر قرار دے دیا۔انہوں نے نئے امریکی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائی ایران کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تناظر میں ضروری تھی۔انقرہ میں نیٹو رہنماؤں کے سربراہی اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک روٹے نے کہا کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کا سخت ردِعمل مناسب تھا۔
ناظرین۔۔۔ایران نے امریکی حملوں پرشدید ردعمل دیتے ہویے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے عبوری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی کی مذمت کرتے ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی انتظامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کا تسلسل بھی جاری ہے۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور لبنان کی صورتِ حال عبوری معاہدے کو غیر مؤثر بنا رہی ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک ایران پر حملے کے لیے امریکا کو اپنی سرزمین استعمال نہ کرنے دیں، حالیہ کشیدگی کے سنگین نتائج کی ذمے داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ایران نے کہا ہے کہ حملوں اور تیل کی فروخت پر پابندی کے اقدامات کے بعد ایم او یو کے بعض حصے اپنی افادیت کھو چکے، ایران کے خلاف جارحیت اور حملوں کے لیے استعمال مقامات کو نشانہ بنائیں گے۔واضح رہے کہ امریکی فوج کے ایران کے خلاف نئے حملوں کے بعد ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے بھی ردِعمل دیا ہے
دوسری جانب ۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ملک کے جنوب میں امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بحرین اور کویت میں 85 امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔دوسری جانب ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی سے متعلق ایم او یو کی سنگین خلاف ورزی کی ہے، جنوبی ایران پر حملے، تیل مصنوعات پر پابندی اور مزید حملوں کی دھمکیاں ایم او یو کی خلاف ورزی ہیں
ناظرین ۔۔
ایران اورامریکا کےدرمیان اب جوبھی جنگ بندی ہوگی وہ بہت نازک ، اورغیرپاییدارہوگی ،،کیونکہ رہبر اعلی کی تدفین کےعین موقع پر حملےکرکے امریکا نے ایران کوسخت پیغام دیاہے اور غم سے نڈھال ایران کومزیداشتعال دلایاہے،،لیکن ایک بات یادرکھیے گا میڈیا کےمطابق اس بار حملہ ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے کیاگیاہے کیوں کیاگیاہے ،،وجوہات ایران کو تلاش کرناہوں گی کیا یہ ایران میں موجود اسراییلی ایجنٹوں کی کارروایی ہے یاپھر کویی فالس فلیگ اپریشن ۔یہ وقت ہی بتایےگا
