سیرامک ٹائلز اور شیشہ سازی کی ایسوسی ایشنز نےکہا ہےکہ آئندہ بجٹ میں سیرامک ٹائلز اور شیشے کی درآمد پر ڈیوٹیز میں مزید کمی کی گئی تو یہ صنعتیں مکمل طور بند ہو جائیں گی۔
سیرامک ٹائلز اور شیشہ سازی کی ایسوسی ایشنز نے وزیر اعظم کے معاون خصو صی ہارون اختر خان کو خطوط لکھ دیے جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات اور پالیسی مسائل کے باعث پہلے ہی دونوں صنعتیں 50 فیصد بند ہو چکی ہیں۔
سیرامک ٹائلز اور شیشہ سازی کی صنعتوں نے نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت درآمدی ڈیوٹیوں میں مزید کمی کی تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر مقامی صنعت کو مناسب تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو دونوں شعبے مکمل بندش کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
سیرامک ٹائلز صنعت کے سیکرٹری جنرل عاطف اقبال نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ درآمدی ڈیوٹیوں میں مزید کمی سے سستی درآمدی ٹائلز کی آمد میں اضافہ ہوگا جس کا مقابلہ مقامی صنعت کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان کی سیرامک ٹائلز صنعت مکمل بندش کی طرف جا سکتی ہے جس سے بڑے پیمانے پر روزگار اور معیشت متاثر ہوگی۔
دوسری جانب پاکستان گلاس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل داؤد الرشید نے کہا کہ شیشے کی درآمدات پر ڈیوٹیوں میں مزید کمی سے مقامی گلاس انڈسٹری شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا شیشہ سازی کی صنعت پہلے ہی نصف پیداواری صلاحیت تک محدود ہو چکی ہے اور مزید درآمدی سہولتوں سے مقامی سرمایہ کاری، روزگار اور معیشت کو بھاری نقصان پہچے گا
