0

ایران پر حملے کا خدشہ، امریکا کے تمام آپشنز میز پر: وائٹ ہاؤس

بریک کےبعد اب نظرڈالتے ہیں ۔۔ایران جنگ کےحوالےسے تازہ ترین خبروں پر۔۔
وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان انا کیلی کا کہنا ہے کہ ایران نے نیک نیتی سے مذاکرات نہ کیے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ضروری فیصلہ کریں گے۔اپنے بیان میں انا کیلی نے کہا کہ صدر ٹرمپ بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایران عسکری طور پر کمزور، معاشی طور پر دباؤ میں اور پہلے سے زیادہ تنہا ہوچکا ہے، امریکی صدر کے پاس ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں، ایران نے نیک نیتی سے مذاکرات نہ کیے تو ٹرمپ قومی سلامتی کے لیے ضروری فیصلہ کریں گے۔ نائب ترجمان وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے اپنی ریڈ لائنز بہت واضح کر دی ہیں، ریڈ لائنز میں شامل ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرسکتا، اگر ایران نے ان ریڈلائنز کو تسلیم نہ کیا تو امریکا سخت اقدامات کر سکتا ہے۔

ایران نے قشم جزیرے پر چھوٹے ڈرونز دکھائی دینے کے بعد اپنا فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اصفہان میں بھی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر فضائی دفاعی نظام کو حرکت میں لایا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ممکنہ حملوں کی دھمکیوں کے بعد قشم کے شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے ملکی سلامتی کے حق میں نعرے لگائے۔حکام کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور دفاعی ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سے منسلک اسرائیلی صحافی باراک رویڈ (Barak Ravid) نے امریکی ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ سعودیہ، قطر اور امارات نے امریکا سے کہا کہ ایران پر حملہ ہوا تو قیمت انہیں چکانا پڑےگی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی صحافی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سعودیہ، قطر اور امارات کے رہنماؤں سے پچھلے 24 گھنٹوں میں بات کی، دوحہ،ابوظبی اور ریاض نے صدر ٹرمپ کو مشترکہ پیغام دیا۔اسرائیلی صحافی کے مطابق تینوں ممالک نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ مذاکرات کو موقع دیں، ایران پرحملہ ہوا تو قیمت ہمیں چکانا پڑےگی۔اسرائیلی صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کے حامی اپنے ساتھیوں کو صورتحال سے آگاہ کیا تھا، ٹرمپ نے کہا خلیجی ممالک ردعمل میں اپنی آئل اینڈ انرجی تنصیبات کی تباہی نہیں چاہتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں