بینک آف پنجاب کے صدر اور سی ای او ظفر مسعود نے کہا ہے کہ پاکستان میں 98 فیصد شہریوں کے پاس ڈیجیٹل شناختی کارڈ کی سہولت موجود ہے تاہم اس کے باوجود صرف 30 فیصد بالغ افراد رسمی بینکنگ کے نظام کا حصہ ہیں۔
نیویارک میں ماسٹر کارڈ کے زیرِ اہتمام ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں ظفر مسعود نے پاکستان کے شمولیتی مستقبل، ڈیجیٹل جدت اور مالیاتی شمولیت کے حوالے سے اہم خیالات کا اظہار کیا۔
اس پرمغز اور معلوماتی گفتگو کی میزبانی نامور گلوکارہ اور انجینئر مومنہ مستحسن نے کی۔
ملکی معیشت اور مالیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے ظفر مسعود نے بالغ افراد کے رسمی بینکنگ کا حصہ نہ ہونے اور اس خلیج کو ختم کرنے کے لیے محض مراعات کے بجائے ایک مربوط نظام اور ‘سوسائٹی چارٹر’ کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ٹیلنٹ کا مرکز ہونے کے ناطے ملکی بینکنگ نظام کو فری لانسرز اور ڈیجیٹل انٹرپرینیورز کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان کی کمائی کو باضابطہ معیشت کے دھارے میں لایا جا سکے۔
