پاکستان سمیت 14 ممالک کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں نام نہاد ’صومالی لینڈ‘ کا سفارت خانہ کھولے جانے کی مذمت کی گئی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب، مصر، قطر، ترکیے، اردن، لبنان، انڈونیشیا، جبوتی، صومالیہ، فلسطین، عمان، سوڈان اور یمن کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور عالمی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کسی بھی یک طرفہ کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مشرقی بیت المقدس 1967 سے مقبوضہ علاقہ ہے، اس کی حیثیت تبدیل کرنے کے تمام اقدامات کالعدم اور غیر قانونی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں، صومالیہ کی خودمختاری اور سرزمین کے اتحاد کو نقصان پہنچانے والا ہر یکطرفہ اقدام مسترد کرتےہیں اور وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف کسی بھی اقدام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
