ناظرین! ایران اور امریکا کی اس 5 ماہ طویل جنگ میں ایک انتہائی حیران کن صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ امریکا کے پاس دنیا کی بہترین جاسوس ٹیکنالوجی، جدید ترین سیٹلائٹ کیمرے اور جاسوسی کے جدید آلات موجود ہیں، لیکن اس سب کے باوجود، امریکی انٹیلی جنس آج تک یہ پتا نہیں چلا سکی کہ ایران امریکا کو کہاں کہاں سے نشانہ بنا رہا ہے، اپنے ہتھیار کہاں چھپا رکھے ہیں اور وہ تباہ کن ڈرونز کہاں سے اڑا رہا ہے! امریکا کی بے بسی کا یہ عالم ہے کہ وہ ایران کے اسلحہ ذخائر کو تباہ کرنا تو درکنار، ان کا سراغ تک نہیں لگا پا رہا۔
اور اسی بے بسی کے عالم میں امریکا نے اب ایرانی عوام کے سامنے جھولی پھیلا دی ہے۔ ویوورز! امریکی محکمہ خارجہ کے ‘ریوارڈز فار جسٹس’ پروگرام نے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی بھی ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ڈرون نیٹ ورک کی معلومات دے گا، اسے ڈیڑھ کروڑ ڈالرز (15 ملین ڈالرز) کا بھاری انعام دیا جائے گا۔ امریکا کی نظریں خاص طور پر ‘کیمیا پارس سیوان کمپنی’ (کیپاس) اور اس سے جڑے 7 سینئر عہدیداروں پر ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ آئی آر جی سی کی قدس فورس اور عراق، یمن اور شام میں موجود ایران نواز ملیشیاؤں کے لیے ڈرونز تیار کر رہے ہیں۔ امریکا نے ان افراد کی معلومات دینے والوں کو مالی انعام کے ساتھ ساتھ محفوظ نقل مکانی (Relocation) کی پیشکش بھی کی ہے۔
ادھر ناظرین، خطے میں ایک اور بڑی عسکری پیش رفت ہوئی ہے۔ یمنی حوثیوں اور ایران نواز ملیشیاؤں کے مسلسل حملوں کے بعد، سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے 13 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر ایک ‘بحری دفاعی اتحاد’ قائم کر لیا ہے۔ اس حوالے سے ریاض میں 43 ممالک اور یورپی یونین کے وفد کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت 14 ممالک نے اس سعودی قیادت میں بننے والے کثیر الملکی دفاعی اتحاد کی باقاعدہ حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر بھی سعودی عرب میں ہی ہوگا۔
ویوورز! اب آتے ہیں میدانِ جنگ کے محاذ پر جاری دعووں اور جوابی دعووں کی طرف۔ گزشتہ روز ایران نے دعویٰ کیا تھا اور باقاعدہ سیٹلائٹ تصاویر جاری کی تھیں، جن میں دکھایا گیا تھا کہ اس نے اردن کے الازرق بیس پر امریکی ایف-35 لڑاکا طیاروں کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ لیکن آج امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے اس ایرانی دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ سینٹکام کا واضح کہنا ہے کہ تمام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا تھا اور کسی امریکی طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ امریکا نے تیل بردار جہاز کی ناکہ بندی توڑنے کا ایرانی دعویٰ بھی مسترد کر دیا ہے۔
لیکن ناظرین، جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں، سفارت کاری اور بیانات سے بھی لڑی جا رہی ہے۔ حال ہی میں مصر کی بندرگاہ پر 2 بحری جہازوں کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس کا الزام خطے کی پراسرار ملیشیاؤں پر لگا۔ تاہم، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک تہلکہ خیز بیان دیتے ہوئے اسے سیدھا اسرائیل کا “فالس فلیگ آپریشن” قرار دے دیا ہے! عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل ایسی سازشوں سے مسلم ممالک کے اتحاد کو توڑنا اور خطے کا امن تباہ کرنا چاہتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا کو کھلی وارننگ دی ہے کہ اسے میناب اور قشم جزیرے میں بے گناہ ایرانی شہریوں کا خون بہانے کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا جب میدانِ جنگ میں مار کھاتا ہے، تو عام شہریوں پر غصہ نکالتا ہے۔
اور اس غصے کا عملی مظاہرہ ویوورز، ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر مسلسل حملے کر کے دیا ہے۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت کے احمد الجابر ایئربیس پر واقع اہم امریکی اسٹریٹجک تنصیبات پر ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اس حملے میں امریکی لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، سیٹلائٹ مواصلاتی نظام اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، جو کہ قشم میں رہائشی مکان پر امریکی بمباری کا سیدھا جواب تھا۔
آخر میں ناظرین، امریکی دفاعی ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک بڑی اپ ڈیٹ! امریکی فوج نے ایران کے ڈرونز اور میزائلوں کو ناکام بنانے کے لیے اپنے جدید ترین الیکٹرانک وار فیئر سسٹم ‘ہیمر آف دی گاڈز’ (Hammer of the Gods) کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔ جولائی کے وسط میں امریکی مغربی ساحل پر ٹیسٹ کیا گیا یہ سسٹم ایک الیکٹرانک سگنل ڈسٹرپٹر ہے جو دشمن کے میزائلوں کے GPS اور نیویگیشن سگنلز کو جیم کر دیتا ہے، جس سے وہ اپنے ہدف سے بھٹک جاتے ہیں۔ کیا امریکا کا یہ نیا ‘ہتھوڑا’ ایرانی میزائلوں کا راستہ روک پائے گا؟
جنگ کے اس نئے منظرنامے کی ہر سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!
