ناظرین
وہی ہواجس کاڈرتھا۔۔۔
حکومت کی جانب سےمسلسل دباو،انکار،بدعہدی اور رینجرزکی تعیناتی کےبعدآخرکار آزادکشمیرکےکشمییریوں نے پاکستانی پرچم کو اتاردیا۔الگ کردیا۔۔۔کشمیری پرچم کےساتھ لگانےسے انکارکردیا۔۔۔۔
یہ ہوناہی تھا۔۔۔پاکستانی حکومت نے جس طرح کشمیری نمائندوں کی عوامی ایکشن کمیٹی کو دہشتگردقراردےکر کشمیرمیں طاقت کا بےدریغ استعمال کیا رینجرزکو تعینات کرکے کشمیریوں پرفائرکھولنے کی اجازت دی ، لڑائی جھگڑے میں کئی اہلکارمارے جاچکےہیں صورتحال کشیدہ ہے۔۔کشمیریوں کےدلوں میں نفرت عروج پرہے۔۔وہ لوگ جو کشمیرکےحق میں بولاکرتےتھے آج وہ بھی شرمندگی اور دکھ کا اظہارکررہےہیں حکومت پاکستان نے انہیں بولنے جوگاچھوڑاہی نہیں۔۔۔
کتنی حیرت اور دکھ کی بات ہے کہ حکومت پاکستان یا ان کوچلانےوالی طاقت جسے میں اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں،، کشمیر کےجن رہنماوں ، عوامی نمایندوں سے مذاکرات کرتی ہےاور پھر ایک تحریری معاہدہ بھی کرتی ہے کچھ عرصے کے بعد انہیں دہشت گرد قرار دیدیتی ہے ۔ اُن پر پابندی لگا دیتی ہے۔ آزاد جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا معاملہ دراصل خود حکومت کے بارے میں کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ناظرین ۔۔۔حکومت اور جموں وکشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان 4اکتوبر 2025ءکو ایک معاہدہ طےپاتاہےجس پر موجودہ وفاقی حکومت کے پانچ وزراء سمیت آزادکشمیر کے موجودہ وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھوراور ایکشن کمیٹی کے تین رہنماؤں راجہ امجد ، شوکت نواز میر اور انجم زمان اعوان کے دستخط موجود ہیں ۔ جن وزراء نے اس معاہدے پردستخط کئے وہ اب ایکشن کمیٹی کو دہشتگرد قرار دے رہے ہیں ،،سوال یہ ہےاس حکومت کو آٹھ ماہ پہلے کیوں پتہ نہ چلا کہ ایکشن کمیٹی والے دہشت گرد اور ملک دشمن ہیں؟ اب تو یہ معاملہ برطانوی پارلیمنٹ تک پہنچ گیاہے۔برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیر گروپ کے سربراہ عمران حسین نے 30 دیگر ارکان کے دستخطوں سے حکومت پاکستان کو مشترکہ خط بھیجا ہے جس میں آزادکشمیر میں پیدا ہونیوالی صورتحال پرتشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ عمران حسین اور ان کے کشمیر گروپ سے بھارت ہمیشہ پریشان رہاہے کیونکہ انہوں نے کشمیریوں پر بھارت کے ظلم وستم کیخلاف ہمیشہ بھرپورآواز اٹھائی ہے ۔آج وہی عمران حسین آزادکشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں ۔ کیا اب عمران حسین کو بھی بھارتی ایجنٹ قرار دیا جائیگا؟ پچھلے ایک سال میں پاکستان نے بھارت کو فوجی اور سفارتی میدان میں پسپا ہونے پر مجبور کیا لیکن اب ایسے غلط سیاسی فیصلے کیے جا رہے ہیں جن کا بھارت فائدہ اٹھانے کی کوشش کرئیگا۔ آزادجموں وکشمیرمیں موجود حالیہ بے چینی کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس خطے میں جب بھی کوئی اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھاتا ہے تو وہ غیر ملکی ایجنٹ قرار پاتا ہے ۔ تحریک آزادی کے ہر اہم موڑ پر کشمیری قیادت آپس میں لڑنے لگتی ہے اور انکی جدوجہد پر منفی اثر پڑتا ہے ۔ مت بھولیے کہ پاکستان 14 اگست 1947ء کو قائم ہوا اور کشمیریوں کی موجودہ تحریک آزادی 13 جولائی 1931ء کو شروع ہوئی ۔ 13 جولائی آج بھی یوم شہدائے کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ کشمیریوں کی مزاحمت قیام پاکستان سے قبل شروع ہو چکی تھی
ناظرین ۔۔آزادکشمیرمیں صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے، پرتشدد واقعات، کریک ڈاؤن اور سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 80 کے قریب افراد زخمی ہو چکےہیں,,,جان کی بازی ہارنے والوں میں پولیس کے 3 اہلکار، سکیورٹی فورسز کے 2 جوان اور 2 عام شہری شامل یہ بھی کہاجارہاہے رینجرزنے احکامات نہ ماننے پرآزادکشمیرکےسب انسپکٹرعنایت اللہ کوشہید کردیا،،معلومات اور خبروں کاسلسلہ پاکستانی حکومت اور پرسرارطاقت نے بندکررکھاہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیاپرافواہوں کابازارگرم ہے جس کافائدہ بھارت اٹھارہاہے،،پاکستان کو ہوش کےناخن لیناہوں گی لیکن وہ لوگ جوہمیشہ الحاق پاکستان اور کشمیربنےکاپاکستان کانعرہ لگاتےآئے ہیں خاموش ہوجائیں گے۔۔۔
سوشل میڈیاپرایک ایسے ہی پرجوش کشمیری نے کل کےتکلیف دہ واقعات پر کچھ یوں اظہارخیال کیاہے۔۔لکھاہے۔۔
راولاکوٹ کی فتح مبارک ہو، اہل پاکستان!۔۔میں، جو کشمیر میں پاکستان کا وکیل تھا، جو “کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے کا علمبردار تھا، آج اپنی شکستِ فاش تسلیم کرتا ہوں۔میرا المیہ صرف یہ نہیں کہ میرے بھائیوں کے سینے میں پی او ایف (POF) کی بنی گولی اتاری گئی ہے۔ میری اصل اذیت تو یہ ہے کہ یہ گولی کسی وقتی اشتعال یا غیر ذمہ داری کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس گولی کو پہلے نفرت کے زہر میں بار بار بجھایا گیا، اور پھر سینے میں اتارا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس بہتے لہو پر اب جشن منایا جا رہا ہے۔صرف چلنے والی گولی ہی نفرت کی سان پر نہیں چڑھی تھی، بلکہ یہاں مسلسل نفرت کے نشتر چلائے جا رہے ہیں۔ ہم پر صرف گولیاں ہی نہیں برسائی گئیں، بلکہ سوشل میڈیا پر مقتدرہ کے بھونپو جو زہریلا بیانیہ بناتے ہیں،
ہمارے اپنے “دوست” اُس پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں، قتل عام کے جواز تراش رہے ہیں۔
کشمیرکےحوالےسے بھرپور موقف رکھنےوالے اس تجزیہ کارنے مزیدلکھا،،خیر، یہ منظر ہمارے لیے نیا نہیں ہے؛ ہم نے تاریخ میں اس منظر کو بار بار دیکھا ہےلیکن اس سب کے باوجود، مزاحمت کی چنگاری کبھی ختم نہیں ہوئی اورنہ ہی ہوگی
