0

سپریم کورٹ نے بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنےکو شریعت اور قانون کی خلاف ورزی قرار دیدیا

سپریم کورٹ نے مٹھی خان کی وراثتی زمین پر قبضے کے تنازع پر فیصلہ سنادیا۔

سپریم کورٹ نے خواتین کو وراثت سے محروم کرنے والی قبائلی روایت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیےکہ فراڈ سے حاصل شدہ جائیداد پر کوئی حق نہیں۔

عدالت نے کہا کہ جرگہ قرآن و سنت کے خلاف کسی وارث کا حق ختم نہیں کرسکتا، بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرنا شریعت اور قانون دونوں کی خلاف ورزی ہے۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اصل وارثوں کے حق میں فیصلہ جاری کیا گیا جبکہ جعلی انتقالات کی قانونی حیثیت مسترد کی گئی۔

عدالت کے مطابق ریونیو ریکارڈ میں انتقال ملکیت کا حتمی ثبوت نہیں، فراڈ سے کی گئی منتقلی پرکھڑی پوری قانونی عمارت گرجاتی ہے، وراثتی زمین صرف اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم ہوگی۔

فیصلہ جسٹس عرفان سعادت خان نے تحریر کیا، سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ وراثت میں خواتین کے حقوق پرکوئی سمجھوتہ نہیں، وراثت کے نام پر سپریم کورٹ نے جعلی انتقالات مسترد کردیے۔

سپریم کورٹ نے کہا اسلامی شریعت کے خلاف ہرقبائلی رسم غیرقانونی ہے، سپریم کورٹ نے اپیل خارج کرکے اصل وارثوں کو شرعی حصہ دینے کا حکم برقرار رکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں