کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آٹے کی قیمتوں میں استحکام کیلئے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں گندم، ذخیرہ اندوزی اور محکمہ خوراک میں اصلاحات کے امور پر گفتگو کی گئی۔
مراد علی شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سندھ کو رواں مالی سال میں 15 لاکھ 90 ہزار ٹن گندم کی کمی کا سامنا ہے، جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے آٹے کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
اس کے علاوہ اجلاس میں محکمہ خوراک کو مکمل ڈیجیٹل کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا جس پر مراد علی شاہ نے گندم کی خریداری، ذخیرہ، ترسیل کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کرنے کا کہا جبکہ سندھ حکومت نے انٹیگریٹڈ ویٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔
ترجمان وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق اجلاس میں وفاق کی مجوزہ قومی گندم پالیسی 2026-2030 کے مسودے کا جائزہ لیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے قومی گندم پالیسی کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی، کابینہ کمیٹی مقررہ مدت میں سفارشات صوبائی کابینہ کو پیش کرے گی۔
