امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے ملک اسکیموں سے نہیں پالیسیوں سے چلتے ہیں، پنجاب حکومت پالیسیوں سے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا ایل پی جی کی سرکاری قیمت 241ہے اور عوام کو 500 روپے میں مل رہی ہے، حکومت نے پورے ملک کو گیس سلینڈر پر لگا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پچھلے ہفتے 1 روپے 97 پیسے کم کیے گئے، پیٹرول کے ہر لیٹر پر غریب عوام سے ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی 90 فیصد آبادی موٹرسائیکل چلاتی ہے، ہر ایک لیٹر پیٹرول پر ہم 100 روپے سے زائد ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جب تک ہم سڑکوں پر آکر احتجاج نہیں کریں گے تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا، اگر ہم احتجاج نہ کرتے تو حکومت نے پیٹرول کی قیمت کم نہیں کرنی تھی، کسی بھی صورت پیٹرول کی قیمت 225 سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا سرکاری افسران گاڑیاں تو بڑی رکھ لیتے ہیں لیکن اپنا کام پورا نہیں کرتے، اگر ایف بی آر کے افسران اپنا کام ٹھیک کریں تو غریب پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کسان ہر سال نیچے جا رہا ہے، کھاد کی قیمت کا کوئی تعین نہیں، گنے کی فصل کے پیسے بھی کسان کو پورے نہیں دیے جاتے ہیں، کپاس کی کاشت میں تاریخی کمی ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اسکیموں کے ذریعے عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے، یہ چند لوگوں کو سہولیات دیتے ہیں، باقی افراد کا نہیں سوچتے، ملک اسکیموں سے نہیں پالیسی سے چلتے ہیں، یہاں مافیاز کا راج ہے۔
ان کا کہنا تھا جماعت اسلامی ہمیشہ عوامی بات کرتی ہے، حکومت اسکولوں اور کالجوں کو آؤٹ سورس کر رہی ہے، عام آدمی کے لیے تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہوگیا ہے، پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے اسکول سے باہر ہیں، مفت اور معیاری تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، یونیورسٹیز کو گرانٹس نہیں مل رہی ہیں۔
