ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ملک میں موجودگی کے باوجود شہید رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی نے کیوں پڑھائی۔
اس حوالےسے نئی تفصیلات جیونیوز نے حاصل کرلی ہیں اور یہ بھی کہ قم میں نماز جنازہ کون پڑھائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ملک کی اعلیٰ ترین قیادت نے اس بات پر بھی غور کیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین بیٹے اور نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد اور ان کے ساتھ گھر میں شہید دیگر عزیزوں کی نماز جنازہ پڑھائیں۔
تاہم خدشات موجود تھے کہ نماز جنازہ کے موقع پر امریکا اور اسرائیل ایک بار پھر ایرانی قیادت کو نشانہ بناسکتے ہیں، ان خدشات سے ایرانی وزارت خارجہ کے سینئراہلکار نے تین جولائی کو بھی جیونیوز کو آگاہ کیا تھا جسے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا کے عنوان سے مضموں میں شائع کیا گیا تھا۔
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیان نے ان خدشات کا پس منظر بھی ممکنہ طور پر ظاہر کردیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ نماز جنازہ میں موجود پوری قیادت کو صفہ ہستی سے مٹاسکتے تھے مگر ایران میں مذاکرات کے لیے پھر کوئی نہ بچتا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے سینئر اہلکار نے کہا کہ انتہائی غور وخوض کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ چار عشروں میں ایرانی تاریخ کی اس سب سے اہم نماز جنازہ کی ذمہ داری آیت اللہ جعفر سبحانی کو سونپی جائے۔
اس سوال پر کہ ایران میں کئی اور بزرگ عالم دین بھی موجود ہیں تو پھر آیت اللہ جعفرسبحانی ہی کا نام کیوں تجویز کیا گیا، ایرانی وزارت خارجہ کے اہلکار نے کہا کہ اس فیصلہ کی چار بنیادی وجوہات تھیں۔
اولین بات یہ کہ آیت اللہ جعفرسبحانی ایرانی علمائے کرام میں بزرگ ترین شخصیات میں سے ایک ہیں، مذہبی حلقوں میں ان کی ممتاز دانش مندی کا ہر عالم قائل ہے۔دوسرے یہ کہ حالیہ عشروں میں انہوں نے ہی ایران کے ممتاز ترین علمائے کرام کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
یہ بھی کہ آیت اللہ جعفر سبحانی کا تعلق نہ صرف بانی انقلاب ایران آیت اللہ سید روح اللہ خمینی سے رہا بلکہ وہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بھی دیرینہ طور پر انتہائی قریب تھے۔
پھر یہ بھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ ایسے عالم دین کو پڑھانا تھی جن کا علمی، تحقیقی اور مذہبی درجہ شہید سپریم لیڈرکے درجے سے مطابقت رکھتا ہو۔
آیت اللہ سبحانی ان محض چند حیات مراجع میں سے ایک ہیں جو عوام کے ساتھ ساتھ وسیع تر دینی حلقوں میں بھی تقلید کے ماخذ کے طور پر مسلمہ درجہ رکھتے ہیں۔
آیت اللہ سبحانی فقہ، تفسیر،علم الکلام، فلسفہ، تاریخ اور اعتقاد سمیت متعدد موضوعات پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں جن میں اسلامی قوانین کا فلسفہ،کامیابی کا راز، پیغام، قیادت اُمہ، تفسیرقرآن کی سائنس بھی شامل ہیں، وہ 300 سےزائد تحقیقی مقالہ جات بھی لکھ چکے ہیں۔
جن اہم ترین علمائے کرام یا سرکاری شخصیات کی نماز جنازہ آیت اللہ سبحانی نے پڑھائی تھی ان میں شوریٰ نگہبان اور مجلس خبرگان رہبری کے رکن آیت اللہ محمد مومن، تقابل فقہہ کے جید عالم اور خواتین کے حقوق سے متعلق غیرمعمولی شہرت کے حامل آیت اللہ ابراہیم جنتی، آیت اللہ العظمی شیخ عباس محفوظی، آیت اللہ علی پناہ اشتھاردی اور قم کے کئی دیگر اہم علمائے دین شامل ہیں۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی 7 جولائی کو قم میں نماز جنازہ آیت اللہ جوادی آملی پڑھائیں گے جو نہ صرف بطور فلسفی بلکہ تفسیرقرآن کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آیت اللہ جوادی آملی ان علمائے دین میں سے ہیں جن کی سوچ ایران کے نظام میں جھلکتی ہے۔
