ناظرین! مشرقِ وسطیٰ میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ ایک طرف ایران کے پل تباہ ہو رہے ہیں، سڑکیں نیست و نابود ہو چکی ہیں، اور پاور پلانٹس سے لے کر واٹر پلانٹس تک کو تاک تاک کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایرانی شہریوں کے لیے نظامِ زندگی انتہائی مشکل ہو چکا ہے، تو دوسری جانب خطے میں امریکی فوجیوں کی زندگیوں پر بھی موت کے سائے گہرے ہو چکے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس پلیٹ فارم پر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! سفارتی کوششیں عروج پر ہیں، لیکن تاحال کوئی فریق بھی حملے روکنے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی فوج نے مسلسل دسویں رات بھی ایران پر شدید فضائی حملوں کی لہر برقرار رکھی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق، ان تازہ ترین حملوں کا ہدف آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والی ایرانی فوجی صلاحیتوں کو کچلنا ہے۔ اس مرحلے میں امریکا نے ایران کے فوجی کمانڈ سینٹرز، بحری صلاحیتوں، میزائل و ڈرون لانچ سائٹس اور فضائی دفاعی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ مئی کے آغاز سے اب تک انہوں نے تقریباً 900 تجارتی جہازوں اور 45 کروڑ بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنایا ہے، اور اب وہ کسی بھی ایرانی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار بیٹھے ہیں۔
ناظرینِ گرامی! اسی جنگ کے بیچ پینٹاگون سے ایک سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ ترجمان پینٹاگون شان پارنیل نے تسلیم کیا ہے کہ 7 جولائی سے اب تک تقریباً 100 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف عین اس وقت ہوا جب امریکا نے جمعے کو ہلاک ہونے والے 2 فوجیوں کی شناخت ظاہر کی۔ اگرچہ پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ زخمیوں میں سے 96 فیصد ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں، لیکن 28 فروری سے اب تک 14 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور 427 کے زخمی ہونے کے اعداد و شمار اس خونی جنگ کی سنگینی کا ثبوت ہیں۔
ویوورز! دوسری جانب ایران کا جغرافیہ بھی دھماکوں سے گونج رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق چاہ بہار، کونارک، سیرک اور بندر عباس میں شدید دھماکے سنے گئے ہیں۔ شمال مغربی شہر تبریز پر امریکی حملے میں ایک ایرانی فوجی افسر، مہداد پاشائے شہید ہو گئے ہیں۔ شیراز پر بھی امریکی حملے کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ عراق کے شہر اربیل میں الحریر ایئربیس کے قریب بارود سے بھرا ایرانی ڈرون مار گرایا گیا ہے۔
لیکن ناظرین، ایران بھی خاموش نہیں بیٹھا۔ پاسدارانِ انقلاب نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو کامی کازی ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق کویت کے احمد الجابر ایئربیس پر امریکی میزائل دفاعی ریڈار، ایف پی ایس-117 ریڈار اور پیٹریاٹ نظام تباہ کر دیا گیا ہے تاکہ امریکیوں کو اندھا کر کے آئندہ حملوں کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ کویت کے کیمپ عریفجان اور العدیری کو بھی نشانہ بنایا گیا، اگرچہ کویتی فوج نے کئی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ادھر بحرین کے محرق اور الرفاع میں بھی امریکی پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس اور ریڈار سسٹم کو تباہ کرنے کا بڑا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ویوورز! اس جنگ میں بیانات کی گولہ باری بھی جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے خطرناک وارننگ دی ہے کہ ایران نے اگر ایک بھی امریکی فوجی ہلاک کیا، تو وہ اس کی کئی گنا زیادہ قیمت چکائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو امریکا میں گرفتار نہیں کیا جائے گا، بلکہ ان لوگوں کو پکڑا جانا چاہیے جنہوں نے ایران کو اس جنگ میں دھکیلا۔
دوسری طرف ناظرین، خطے میں ایک 10 روزہ جنگ بندی کی نئی تجویز پر بھی کام ہو رہا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ سفارتی رابطے جاری ہیں لیکن فوجی ردعمل بھی رکے گا نہیں۔ انہوں نے امریکا کو وارننگ دی کہ اگر اس نے جزیرہ خارگ پر قبضے کی مہم جوئی کی، تو ایرانی فوج زمینی حملے میں امریکیوں کا استقبال کرنے کے لیے ایک ایک منٹ گن رہی ہے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکا بامعنی مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن ایران آبی گزرگاہ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا موقف ہے کہ تہران مکمل جنگ لڑ رہا ہے اور اس کے اثرات کو تسلیم کرنا چاہیے۔
آخری اور اہم خبر یہ ہے کہ ویوورز، آبنائے ہرمز کے جنوب اور خلیجِ عمان کے ساحل پر تیل بردار جہازوں میں پراسرار دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ فجیرہ بندرگاہ کے قریب بھی ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے فوراً بعد ایئر فرانس نے خطے کی کشیدہ سیکیورٹی کے پیشِ نظر دبئی، ریاض اور بیروت کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
کیا مشرقِ وسطیٰ میں یہ 10 روزہ جنگ بندی کامیاب ہو سکے گی یا حالات مزید بگڑیں گے؟ اس کی ہر اپڈیٹ جاننے کے لیے ‘پکی خبر’ کے ساتھ جڑے رہیں۔ اپنے میزبان راجہ واجد کو اجازت دیجئے، اللہ حافظ!
0

