واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے شہر نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی۔
وائٹ ہاؤس میں لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملہ جلد ہوگا، ایرانی اس حملے کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کرسکیں گے۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر انہوں نے بارک اوباما اور ایران کے درمیان ہوئی “نیوکلیئر ڈیل” ختم نہ کی ہوتی تو آج دنیا میں اسرائیل کا وجود باقی نہ ہوتا۔ کیوں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکی بی ٹو بمبار طیارے ایک سال پہلے ایرانی نیوکلیئر سائٹس کو نشانہ نہ بناتے تو ایران ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا اور نہ اسرائیل باقی ہوتا اور نہ ان کے خیال میں مشرق وسطی کے کئی ملک باقی ہوتے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو اس درجے تک کم کردیا جس کا کسی نے سوچا تک نہیں تھا۔ اردن میں ضرور ایران نے کچھ نقصان پہنچایا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اگر “دیگر آپریٹرز” ساتھ دیتے تو ایران ایسا نہ کرپاتا۔ ٹرمپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ “دیگر آپریٹرز” سے ان کی مراد کیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ ملاقات کے شدت سے خواہاں ہیں کیوں کہ انہیں شدید تباہی کا سامنا ہے۔ امریکا کی ایرانیوں سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں ہے۔
ایک سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایران غالباً آبنائے ہرمز کی دھمکی دے کر نومبر کے امریکی کانگریس الیکشز میں ان کے اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے امکانات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایران کی اس کوشش کا جو بھی اثر ہو، وہ وہی کریں گے جو درست ہوگا۔
ٹرمپ نے کہا کہ جہاں تک انتخابات کا تعلق ہے، تو وہ نہیں سمجھتے کہ ان پر ایران کے جنگ سے کوئی اثر پڑے گا۔
