ایران اور امریکا جنگ کےگیارہ روز۔۔امریکا ایران کےمختلف شہروں پر بم برسانے میں مصروف ۔۔
ایران نےخلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو مسلسل نشانے پررکھ لیا۔۔۔
امریکا نے ایرانی شہرتبریزپربم برسادئیے،،ایرانی میڈیاکےمطابق جنوبی ایران کےعلاقے سیریک کے اطراف اور بوشہر میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں،، امریکی سینٹ کام کاکہناہےحملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے سینٹ کام کےمطابق ایران اب تک تیس سے زائد تجارتی جہازوں پر حملہ کرچکا ہے
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ عسکری کمان خاتم الانبیا بریگیڈ نے خبردارکیاہے، اگر امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو خطے میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔جوہری تنصیبات پر حملہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کا باعث بنے گا۔
ایران کےخلاف جنگ امریکا کومہنگی پڑنےلگی ،،اب تک 37.5ارب ڈالرخرچ،،،ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے 87ارب ڈالر فنڈز کی درخواست کردی ۔ امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ نے قانون سازوں کو خفیہ بریفنگ میں فنڈنگ کی درخواست کی بولے فنڈنگ نہ دی گئی تو یہ ملک کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوگا۔
جنگ کےدوران ایک بارپرامریکا نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے،امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے منیلامیں صحافیوں سے گفتگوکرتےہوئے ایک سوال کےجواب میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ایرانی حکام نے موجودہ کشیدگی کے حوالے سے مذاکرات کے لیے ہم سے رابطہ کیا ہے۔ لیکن وعدوں کی پاسداری ضروری ہے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔مارکو روبیو نے کہا کہ سمندری راستوں اور آبی گزرگاہوں پر کسی بھی ملک کے کنٹرول کو قبول نہیں کریں گے، بحری جہازوں اور آزادانہ نقل و حرکت کے حق کا دفاع جاری رکھیں گے۔