0

‘کاکروچ آجائیں تو جاتے نہیں‘، وزیر تعلیم کے استعفے پر سی جے پی صدر کا بیان

نئی دہلی: بھارت کے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا ردعمل سامنے آگیا۔

دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پررد عمل دیا گیا جس میں لکھا تھا کہ ‘کاکروچز جیت گئے، جمہوریت جیت گئی’۔

دوسری جانب دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی صدر ابھیجیت دیپکے نے احتجاج میں شریک طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اگر ڈر گئے تو پھر کیسی جمہوریت، اگر اپنی آواز اٹھاؤگے تو یہ لوگ لائن میں رہیں گے، انہیں لائن میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ یہ جو خودکو بادشاہ سمجھ بیٹھے ہیں یہ ہماری وجہ سے بیٹھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرمیندر کا استعفیٰ ہوگیا، ہماری دو اور مانگیں ہیں، ہی ایسے نہیں جائیں گے، کاکروچ ایک بار آجائیں تو جاتے نہیں، جن بچوں نے خودکشی کی ان کے خاندان کو ایک کروڑ معاوضہ دیا جائے، پولیس کے غنڈوں نے جو ایکشن کیا اس پر کارروائی ہونی چاہیے، پولیس یاد رکھے کاکروچ سے پنگا نہیں ، ایک وزیر کا استعفیٰ لے سکتے ہیں تو تم کیا ہو۔

ابھیجیت دیپکے نے مطالبہ کیا کہ جتنے طلبہ پر مقدمات بنے وہ سب کے سب واپس لیے جائیں۔

اُدھر بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ یہ جمہوریت کی فتح ہے، یہ امن، صبر اور استقامت کی فتح ہے۔

سونم وانگچک نے کاکروچ جنتا پارٹی اور جین زی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ تمام شہریوں کا شکریہ جنھوں نے ڈرنے کے بجائے ملک کے ہر کونے سے آواز بلند کی۔ انہوں نے اسے احتساب سے اصلاحات کی جانب پہلا قدم قراردیا۔

خیال رہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے تقریباً دو ماہ سے دارالحکومت نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر احتجاج جاری تھا اور اس دوران بھارت کی نامور شخصیت سونم وانگچک نے 26 روزہ بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔

کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے 20 جولائی کو سب کو جنتر منتر پہنچنے کی کال دی گئی جس پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان احتجاج میں پہنچ گئے تاہم بھارتی پولیس کی جانب سے نوجوانوں پر بدترین لاٹھی چارج کیا گیا اور واٹر کینن کا استعمال کیا گیا، درجنوں نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔

اس کے علاوہ پولیس نے مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کا بھی استعمال کیا تھا جب کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔

بھارتی وزیراعظم مودی نے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے نوجوانوں کو احتجاج ختم کرنے کی ترغیب دی لیکن مودی سرکار کے تمام اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود بھارتی نوجوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور حکومت کا فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کا مطالبہ مسترد کردیا۔

بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اور سیاسی و سماجی شخصیات بھی نوجوان مظاہرین کے مطالبات کو جائز قرار دیتی رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں