ناظرین! ‘پکی خبر’ کی اس خصوصی نیوز اینکرنگ نشریات میں آپ کو خوش آمدید۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد۔
ویوورز! آج کا یہ ویلاگ کسی بین الاقوامی جنگ یا عالمی سیاست پر نہیں، بلکہ میرے اپنے آبائی شہر، میری جنم بھومی ‘گوجرخان’ کے نام ہے۔ گو کہ میں اس وقت دیارِ غیر میں مقیم ہوں، لیکن میرے سینے میں دھڑکنے والا دل آج بھی گوجرخان کی گلیوں اور اس کی مٹی کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آج میں آپ کے سامنے اس عظیم شہر کا نوحہ پیش کروں گا، اپنا دردِ دل رکھوں گا اور بتاؤں گا کہ حکومت اور انتظامیہ شہداء کی اس سرزمین کے ساتھ کیسا سوتیلا سلوک کر رہی ہے۔
ناظرینِ گرامی! گوجرخان محض نقشے پر موجود کوئی عام سی انتظامی اکائی نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی تاریخ، دفاع اور قومی غیرت کا ایک روشن اور انمٹ باب ہے۔ یہ وہ دھرتی ہے جس کے بہادر سپوتوں نے وطنِ عزیز کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور مسکراتے ہوئے اپنے سینوں پر ‘نشانِ حیدر’ سجائے۔ اسی لیے تو گوجرخان کو بجا طور پر شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین کہا جاتا ہے۔
لیکن ویوورز! آج اس دھرتی کا دل رو رہا ہے۔ گوجرخان کے ایک سینئر صحافی جناب ظہیر اختر خواجہ، جو میری طرح اپنی مٹی کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں، انہوں نے اپنے حالیہ کالم “پوٹھوہار کا دل گوجرخان، لیکن محرومیوں کا مرکز” میں حکومت اور انتظامیہ کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ظہیر اختر خواجہ اپنے کالم میں وہ تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں کہ جس خطے نے پاکستان کو بہادر جرنیل، نڈر سپاہی، قومی رہنما اور اعلیٰ سرکاری شخصیات دیں، وہی خطہ آج بنیادی سہولیات کی تقسیم میں بری طرح نظر انداز ہو رہا ہے۔ آخر کوئی تو حکومت جواب دے کہ گوجرخان کا قصور کیا ہے؟
ناظرین! رقبے، آبادی، تاریخی حیثیت اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے گوجرخان پنجاب کی نمایاں ترین تحصیلوں میں شمار ہوتا ہے۔ مگر افسوس! بعد میں بننے والی کئی چھوٹی تحصیلیں محض سیاسی مصلحتوں اور سفارشوں کی بنیاد پر ‘ضلع’ بن گئیں، اور گوجرخان کو ہر دور میں صرف کھوکھلے وعدوں، اعلانات اور سیاسی نعروں کا لولی پاپ دیا گیا۔ جب انتظامی فیصلوں میں میرٹ کا قتل کر کے سیاسی مصلحتوں کو فوقیت دی جائے، تو عوام کا یہ سوال کرنا بالکل بجا ہے کہ گوجرخان کو اس کے جائز حق سے مسلسل کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟
اس سے بھی زیادہ شرمناک اور افسوسناک بات گوجرخان کے منتخب نمائندوں کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ ویوورز! عوام انہیں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ووٹ دے کر اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں، مگر جب گوجرخان کو ضلع بنانے، یہاں جدید ہسپتال، اعلیٰ تعلیمی ادارے اور انفراسٹرکچر لانے کی باری آتی ہے، تو ان کی زبانوں پر تالے پڑ جاتے ہیں۔ صرف الیکشن کے دنوں میں عوام کے دروازوں پر دستک دینا اور پھر پانچ سال تک غائب رہنا جمہوریت نہیں، بلکہ عوام کے ساتھ کھلا دھوکا ہے۔
ناظرین! ظہیر اختر خواجہ بجا لکھتے ہیں کہ گوجرخان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس دھرتی کے بیٹوں نے ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ اس مٹی نے پاکستان کو آرمی چیف دیا، وزیر اعظم دیا، اسپیکر قومی اسمبلی، ڈی جی آئی ایس آئی، گورنر پنجاب اور وفاقی و صوبائی وزراء دیے۔ لیکن یہ کیسی تلخ اور چبھتی ہوئی حقیقت ہے کہ اتنی بااثر اور طاقتور شخصیات کے باوجود گوجرخان آج تک ‘ضلع’ کا درجہ حاصل نہ کر سکا! آج تک یہاں کوئی جدید ٹراما سینٹر نہ بن سکا، اور نہ ہی پوٹھوہار کے طلبہ کے لیے کسی جامع سرکاری یونیورسٹی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔
ویوورز! اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ وہ شخصیات جو عوامی خدمت کے دعوے کر کے پروٹوکول کے مزے لوٹ رہی ہیں، ان کی اس بے حسی نے عوام کے احساسِ محرومی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ گوجرخان کے عوام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے اجتماعی حقوق کے لیے متحد ہوں۔
آج گوجرخان کے عوام اور دیارِ غیر میں بسنے والے ہم تمام سپوت یک زبان ہو کر حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گوجرخان کی محرومیاں ختم کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ‘ضلع’ کا درجہ دیا جائے! عوام کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ اب ہم سیاستدانوں کی طفل تسلیوں اور ٹرخانے والے وعدوں سے بہلنے والے نہیں۔ جب تک ہمارا حق نہیں ملتا، یہ آواز مسلسل بلند ہوتی رہے گی اور ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
اپنے شہر، اپنے حقوق اور سچ کی آواز بلند کرنے کے لیے دیکھتے رہیے ‘پکی خبر’۔ اپنے میزبان راجہ واجد کو اجازت دیجئے، اللہ حافظ!
