ناظرین! مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ اب تصور سے بھی زیادہ پھیل چکا ہے اور بارود کی بو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! “اللہ کی مدد سے آج جارح کو سزا دی جائے گی!” یہ کوئی عام بیان نہیں، بلکہ ایرانی پاسداران انقلاب کا وہ لرزہ خیز اعلان ہے جس نے واشنگٹن کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ یہ سنگین دھمکی امریکا کی جانب سے گزشتہ رات ایران پر ہونے والی طوفانی بمباری کے بعد سامنے آئی ہے۔ ایرانی میڈیا اور پریس ٹی وی کے مطابق قشم، کیش، بندر عباس، آبادان اور خاص طور پر بوشہر—جہاں ایران کا واحد جوہری بجلی گھر واقع ہے—دھماکوں کی خوفناک آوازوں سے گونج اٹھے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قشم کے رہائشی علاقوں میں بھی میزائل گرے ہیں۔
ناظرینِ گرامی! امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے باقاعدہ اس جارحیت کی تصدیق کر دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ہی دھمکی دی تھی کہ اردن میں امریکی اڈے پر حملے کا ‘انتہائی سخت’ جواب دیا جائے گا، اور اب امریکی افواج کھلم کھلا ایران کے اندرونی اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قوم کا لہو گرماتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام دشمن کی ناانصافی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے اور مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کریں گے۔
دوسری جانب سمندروں پر بھی گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ ویوورز! امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سخت کرتے ہوئے اب تک 20 تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا ہے، 2 کو ناکارہ بنایا اور 2 کی تلاشی لی ہے۔ لیکن پاسدارانِ انقلاب نے امریکا کا ساتھ دینے والے علاقائی ممالک کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکی مداخلت جاری ہے، آبنائے ہرمز مکمل بند رہے گی! آئی آر جی سی کے مطابق، گزشتہ رات امریکی طیاروں کے کہنے پر 2 آئل ٹینکرز نے غیر محفوظ راستے سے نکلنے کی کوشش کی، جن میں سے ایک میں اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں کو مجبوراً واپس لوٹنا پڑا۔ البتہ حیران کن طور پر ایک قطری ایل این جی جہاز، جو کہ تین ہفتوں بعد پہلا جہاز ہے، ایران کے راستے سے بحفاظت آبنائے ہرمز کراس کر گیا ہے۔
ناظرین! اس آگ کی لپیٹ میں اب پورا خطہ آ چکا ہے۔ کویت کے شمالی علاقے میں ایک چینی کمپنی کی عمارت پر مبینہ ایرانی حملے سے ایک مزدور ہلاک اور عمارت کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ اردن کی افواج نے الرٹ جاری کرتے ہوئے ایرانی حدود سے آنے والے 5 میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اور تو اور ویوورز، حملوں کا دائرہ اب مصر تک پہنچ گیا ہے! مصر کی دامی اطاح بندرگاہ پر ڈرون حملے میں ایک امریکی گیس اسٹوریج ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا جس سے 2 جہازوں میں آگ لگ گئی۔
لیکن ویوورز، اس ساری جنگ میں ایک بہت بڑا معمہ یہ ہے کہ آخر سعودی عرب پر حملے کون کر رہا ہے؟ عراقی مسلح افواج کے ترجمان نے امریکی اور سعودی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں ثبوت مانگ لیے ہیں کہ عراق سے حملے ہونے کے شواہد آخر ہیں کہاں؟ ناظرین، اگر عراق حملہ نہیں کر رہا، اور ایران بھی لاتعلقی کا اظہار کر چکا ہے، تو پھر وہ کون سی خفیہ طاقت ہے جو میزائل برسا کر مسلم ممالک کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے؟ اشارہ صاف ہے کہ خطے میں جنگ کی آگ بھڑکانے والی طاقتوں کو اس عدم استحکام سے سب سے زیادہ فائدہ ہو رہا ہے۔
اور آخر میں ویوورز! ایک انتہائی چشم کشا اور بڑی اپ ڈیٹ! کیا امریکی فوجی خود اپنے ہی ملک کی تباہی کا سامان کر رہے ہیں؟ امریکی سینٹکام کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے فوجیوں کو ایک ہنگامی خط لکھ کر انتباہ کیا ہے کہ ان کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر سے ایران کو اپنے حملوں کی کامیابی اور نقصان کا بالکل درست اندازہ ہو رہا ہے! ناظرین، حالات اتنے سنگین ہو چکے ہیں کہ اردن اور دیگر خطوں میں تعینات امریکی فوجیوں کے موبائل فونز مکمل طور پر ضبط کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں تاکہ ایران کو مفت میں انٹیلی جنس معلومات نہ مل سکیں۔
یہ جنگ اب کیا رخ اختیار کرے گی؟ کیا امریکا اندرونی طور پر کھوکھلا ہو رہا ہے؟ ہر سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!
