ناظرین! عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک ایسا زبردست بھونچال آ گیا ہے جس کا انتظار مسلم اُمہ دہائیوں سے کر رہی تھی۔ وہ خواب جسے مغربی دنیا اور یورپ طنزیہ طور پر ‘اسلامک نیٹو’ کہا کرتے تھے، آج مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر بالآخر پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور پکی خبر کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! مکہ مکرمہ میں ایک انتہائی غیر معمولی اور تاریخی مشترکہ دفاعی سمٹ منعقد ہوا، جہاں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی خصوصی طور پر موجود تھے۔ اس معاہدے کی سب سے بڑی اور تہلکہ خیز شق یہ ہے کہ ان تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بھی اگر مسلح حملہ ہوا، تو وہ باقی دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا مشترکہ اور بھرپور فوجی جواب دیا جائے گا۔
ناظرین کے ذہنوں میں اس وقت کئی سوالات گونج رہے ہوں گے کہ اس معاہدے سے کس کو کیا فائدہ ہوگا؟ اس کی قیادت کون کرے گا؟ دفاعی اخراجات کا بوجھ کون اٹھائے گا؟ اور ان تینوں ممالک کا انفرادی کردار کیا ہوگا؟ ویوورز، اس اتحاد کی خوبصورتی اس کے توازن میں چھپی ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کی اکلوتی ایٹمی طاقت اور بہترین عسکری صلاحیتوں کا مالک ہے۔ ترکیہ کے پاس نیٹو کی دوسری سب سے بڑی اور جدید ترین فوج اور شاندار ڈیفنس انڈسٹری ہے۔ جبکہ سعودی عرب خطے کا معاشی دیو ہونے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کا روحانی مرکز ہے۔ اخراجات اور وسائل کی فراہمی میں سعودی عرب کا کردار کلیدی ہوگا، ترکیہ جدید ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک گہرائی دے گا، جبکہ پاکستان اپنی ایٹمی چھتری اور زمینی وعسکری طاقت فراہم کرے گا۔ اس اتحاد میں کوئی ایک ملک روایتی معنوں میں ‘باس’ نہیں، بلکہ یہ ایک مشترکہ اور مساوی شراکت داری ہے جس کی قیادت تینوں دارالحکومت مل کر کریں گے۔
ایک اور انتہائی اہم سوال جو گردش کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد اب افغانستان یا ایران پر حملے کرے گا؟ ناظرین، اس کا جواب ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے ایک بیان میں واضح کر دیا ہے کہ یہ معاہدہ “کسی ملک کے خلاف نہیں ہے”۔ اس کا بنیادی مقصد ‘ڈیٹرنس’ یعنی جنگ کو روکنا اور اپنے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ کوئی جارحانہ (Offensive) اتحاد نہیں ہے جو افغانستان یا ایران پر چڑھائی کرنے کے لیے بنایا گیا ہو۔ اس کا واضح پیغام یہ ہے کہ اگر کسی نے ریاض، اسلام آباد یا انقرہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا، تو اسے تینوں افواج کا بیک وقت سامنا کرنا پڑے گا۔ ترکیہ کو اپنے اردگرد کے سیکیورٹی مسائل، سعودی عرب کو یمن اور خطے کے خطرات، اور پاکستان کو بھارت کے خلاف ایک مضبوط اور ٹھوس عالمی پشت پناہی مل گئی ہے۔
ویوورز! یہ اتحاد راتوں رات نہیں بنا۔ جنوری میں ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان اور پاکستانی وزیرِ مملکت رضا حیات ہراج اس بات کی تصدیق کر چکے تھے کہ ایک سال کی طویل بات چیت کے بعد اس کا مسودہ تیار ہوا ہے۔ لیکن اس کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ ترک صحافی مہمت چلیک کے مطابق، 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے نے خطے کا سیکیورٹی توازن بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ سعودی عرب کو محسوس ہوا کہ اسے وہ سیکیورٹی تحفظ نہیں مل رہا جس کی اسے امریکا سے امید تھی، اور ترکیہ کو بھی مشرقِ وسطیٰ کے غیر یقینی حالات میں ایک مضبوط سیکیورٹی میکنزم کی ضرورت تھی۔
ناظرین! اس معاہدے سے خطے میں سب سے زیادہ تکلیف اگر کسی کو ہو رہی ہے، تو وہ اسرائیل ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ ماہ قبل اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے چیخ چیخ کر امریکیوں کو خبردار کیا تھا کہ خطے میں ایک نیا “سنی الائنس” ابھر رہا ہے جس میں ترکیہ، قطر، اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہیں، اور یہ اتحاد اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ آج بینیٹ کا وہ ڈراؤنا خواب مکہ میں سچ ثابت ہو گیا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ ساتھ خطے کے کچھ دیگر ممالک، جیسے متحدہ عرب امارات، بھی اس نئے بلاک کی طاقت سے قدرے بے چینی محسوس کر رہے ہیں کیونکہ اس سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا محور تبدیل ہو رہا ہے۔
سفارتی ماہرین، جن میں سابق سفارتکار عمران علی اور جاوید حفیظ شامل ہیں، کا ماننا ہے کہ امریکا مستقبل میں بتدریج مشرقِ وسطیٰ سے نکلنے کی تیاری کر رہا ہے، اور طاقت کا جو خلا وہاں پیدا ہوگا، یہ نیا اتحاد اسے پُر کرے گا۔ یہ اتحاد یہیں تک محدود نہیں رہے گا۔ ماہرین کے مطابق بہت جلد مصر اور قطر بھی اس کا باقاعدہ حصہ بن سکتے ہیں، اور حیرت انگیز طور پر حالات کی بہتری کے ساتھ مستقبل میں ایران کی شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ خطے کی سلامتی سب کی مشترکہ ضرورت ہے۔
ویوورز! اس تاریخی معاہدے کے لیے ‘مکہ مکرمہ’ کا انتخاب بذات خود ایک بہت بڑا پیغام ہے۔ یہ دنیا کو بتانے کے لیے کافی ہے کہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کی حفاظت کے لیے اب صرف دعائیں نہیں، بلکہ ایک ایٹمی طاقت اور دنیا کی بہترین افواج کا عملی اور تحریری گٹھ جوڑ موجود ہے۔ اب کسی کو خطے میں بلاجواز جارحیت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عالمی سیاست کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے پر پکی خبر آپ کو باخبر رکھے گا۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

