انکوائری کمیٹی کے سربراہ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان نے وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کو رپورٹ جمع کروائی
تحقیقاتی رپورٹ کو عوام کے لیے جاری کرنے کا اختیار وزیراعظم کو دے دیا گیا ہے
کمیٹی نے سانحۂ پمز کی وجوہات کا تعین کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کی سفارش کی ہے
حادثے کے وقت پمز کا جو عملہ غیر حاضر تھا، اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے
رپورٹ میں پمز اسپتال کے اندر علاج معالجے کی سہولتوں کو ناکافی اور عالمی معیار کے برعکس قرار دیا گیا ہے
پمز انتظامیہ، ڈاکٹروں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات کو تحقیقاتی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے
