پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن یا نئی حکمت عملی؟ 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک کھٹائی میں پڑ گیا!
پشاور میں سیاسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس کی اندرونی کہانی بے نقاب؛ حالات کی نزاکت بھانپتے ہوئے تاریخ آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیا گیا۔ اتحادیوں محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر کو منانے کا کٹھن ٹاسک وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے گلے پڑ گیا۔ دوسری جانب شوکت یوسفزئی کی بڑھکیں بھی ہوا میں اڑ گئیں، جنہوں نے چند گھنٹے قبل ہی دعویٰ کیا تھا کہ مارچ ہر صورت ہوگا، کچھ حاصل کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے اور جہاں راستہ بند ملا وہیں دھرنا مار دیں گے!
اسلام آباد احتجاج سے قبل وفاق کو بڑا دھچکا۔۔۔ پنجاب حکومت نے مطلوبہ پولیس نفری دینے سے کورا جواب دے دیا!
وفاق کی جانب سے 19 ہزار اہلکاروں کی ڈیمانڈ پر پنجاب حکومت نے اپنے ہی سیکیورٹی حالات کا رونا رو کر ہاتھ کھڑے کر دیے، اور بمشکل ساڑھے 12 ہزار نفری دینے کی حامی بھر لی۔ راولپنڈی اور مری کی سیکیورٹی کا عذر پیش کر کے مزید جوان بھیجنے سے معذرت۔ دریں اثناء سندھ پولیس کے 2 ہزار اہلکار وفاقی دارالحکومت پہنچ گئے، اسلام آباد کو چھاؤنی بنانے کی تیاریاں عروج پر!

