0

**آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران آمنے سامنے، خطے میں جنگی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔**

ناظرین! آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکا اور ایران ایک بار پھر آمنے سامنے آ گئے ہیں اور اس بار بات سیدھی پیسوں اور قبضے پر آ رکی ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس پلیٹ فارم سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

ویوورز! امریکا نے اب وہ طریقہ اپنا لیا ہے جو کبھی ایران کا طرہ امتیاز تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز اور سوشل میڈیا پر ایک تہلکہ خیز اعلان کیا ہے کہ اب امریکا آبنائے ہرمز کا ‘محافظ’ ہوگا، اور اس سیکیورٹی کے بدلے تمام کارگو جہازوں سے 20 فیصد فیس وصول کرے گا! بات یہیں ختم نہیں ہوتی، امریکی سینٹرل کمانڈ نے وارننگ دی ہے کہ 14 جولائی سے ایرانی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والی تمام بحری ٹریفک کی ناکہ بندی شروع کر دی جائے گی۔ یہ ایک سیدھا اور دو ٹوک ‘ادلے کا بدلہ’ ہے، یعنی جو زبان ایران بول رہا تھا، امریکا نے اسی میں جواب دیا ہے۔

ناظرینِ گرامی! دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی جوابی وار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کا اصل محافظ ہمیشہ سے ایران رہا ہے اور آگے بھی رہے گا، البتہ ٹرمپ کی 20 فیصد فیس بہت زیادہ ہے، ہم اس کے بجائے ایک ‘منصفانہ’ فیس وصول کریں گے۔

اس سارے کھیل میں خطے کے دیگر ممالک خاص طور پر متحدہ عرب امارات شدید پریشان ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ امارات نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کو حملوں سے روکنے کے لیے مبینہ طور پر 10 ارب ڈالر دیے ہیں! یہی وجہ ہے کہ ایرانی میزائلوں کا رخ اب امارات کے بجائے کویت اور بحرین کی جانب مڑ گیا ہے۔

ویوورز! ایرانی خبر ایجنسی فارس نے دعویٰ کیا ہے کہ امارات کے 2 سپر آئل ٹینکرز پر دھماکوں کے بعد یو اے ای نے ایران سے راستہ کھولنے کی منتیں کی ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امارات امریکی دھوکے میں آکر 20 کروڑ ڈالر کا نقصان کروا بیٹھا ہے۔ امریکی فوج نے انہیں غیر قانونی اور بارودی سرنگوں والے راستے پر جانے کے لیے اکسایا، اور انہوں نے وارننگز کو نظر انداز کیا۔

اس کے ساتھ ہی، ناظرین، پاسدارانِ انقلاب نے ‘آپریشن نصر 2’ شروع کر دیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اردن میں امریکی ائیر بیس پر بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں، جو ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی تھی (اگرچہ اردن نے چار میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے)۔ اس کے علاوہ بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ ہیڈکوارٹر، ریڈار سسٹمز (C-RAM اور پیٹریاٹ)، اور اسلحہ گوداموں پر بھی تباہ کن ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے ہیں جس سے ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی۔

جواب میں امریکا کہاں چپ رہنے والا تھا؟ ویوورز، امریکی سینٹکام نے اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے حکم پر ایران کے خلاف مسلسل تیسری رات بھی شدید فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ایران کے ساحلی دفاعی نظام، بوشہر، چابہار، جسک، اور بندر عباس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں الرٹ ہیں اور ان کا مقصد ایران کی بحری طاقت کو مفلوج کرنا ہے۔

ناظرین! اس آگ میں نیا گھی یمن کے حوثیوں نے ڈالا ہے، جنہوں نے آبنائے ہرمز کے بعد اب آبنائے باب المندب کا محاذ بھی کھول دیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ابہا ایئرپورٹ پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں اور ساتھ ہی آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی خطرناک دھمکی بھی دے دی ہے۔

ایران نے ہر طرف سے جنگ کے محاذ کھول لیے ہیں اور صورتحال مکمل طور پر بے قابو ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران خود اپنے لیے مشکلات کھڑی کر رہا ہے۔ ویوورز، لگتا ہے کہ اس بار پاکستان اور دیگر ثالث ممالک بھی اس تباہی کو نہیں روک پائیں گے۔ خطے کی اس تیزی سے بدلتی صورتحال پر ‘پکی خبر’ آپ کو باخبر رکھے گا۔ اپنی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں