0

احتجاج کے بعد ہی بات کرنی ہے تو پہلے کیوں نہیں کرتے؟ تازہ ترین بریکنگ نیوزصرف5 منٹ میں

حتجاج کے بعد ہی بات کرنی ہے تو پہلے کیوں نہیں کرتے؟ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاق کی جانب مذاکرات کی گیند پھینک دی!
لانگ مارچ میں تاخیر کو پسپائی کے بجائے ‘سیاسی حکمت عملی’ کا نام دے دیا۔ بولے؛ حکومت 7 دن میں مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو افہام و تفہیم کا راستہ اپنائے۔ 4 اکتوبر کے مارچ کو ‘پتھر پر لکیر’ قرار دے دیا؛ مولانا فضل الرحمٰن آنا چاہیں تو ان کے لیے بھی دروازے کھلے ہیں۔ سہیل آفریدی کا دبنگ اعلان؛ بانی پی ٹی آئی کے لیے وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کی کوئی اوقات نہیں، نااہل ہوا تو اپنا متبادل بھی خود نہیں بلکہ بانی پی ٹی آئی طے کریں گے!

“کھودا پہاڑ نکلا چوہا”۔۔۔ پی ٹی آئی کے غبارے سے ہوا نکل گئی، وزیر اطلاعات عطاء تارڑ کے تابڑ توڑ حملے!
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو انتظامی اور سیاسی طور پر مکمل ‘فارغ’ قرار دے دیا۔ طنز کے تیر چلاتے ہوئے بولے؛ کے پی حکومت کی رٹ ریت کی دیوار ثابت ہوئی، لانگ مارچ کی تو سرے سے کوئی تیاری ہی نہیں تھی۔ عطاء تارڑ نے پی ٹی آئی کا دہشتگردوں سے گٹھ جوڑ ہونے کا سنگین الزام عائد کر دیا؛ کہا ڈنکے کی چوٹ پر دہشتگردوں کا صفایا کریں گے، فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں