0

امریکا اور ایران کی جنگ مزید خطرناک مرحلے میں داخل، دونوں جانب سخت دھمکیوں اور حملوں نے خطے میں کشیدگی کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا۔

ناظرین! امریکی فوجیوں کی مسلسل ہلاکتوں پر واشنگٹن میں صفِ ماتم بچھی ہے اور صدر ٹرمپ غصے سے آگ بگولہ ہو چکے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

ویوورز! صدر ٹرمپ نے اب تک کی سب سے بڑی اور بھیانک دھمکی دے ڈالی ہے۔ ان کا دو ٹوک کہنا ہے کہ اگر اب ایران نے کسی ایک بھی جہاز کو نشانہ بنایا، تو وہ سیدھا ایران کے دارالحکومت ‘تہران’ پر حملہ کریں گے اور وہاں موجود پلوں، پانی کی فراہمی اور توانائی کے پلانٹس کو نیست و نابود کر دیں گے۔

اور ناظرینِ گرامی! یہ صرف زبانی دھمکی نہیں، امریکا نے اپنی جنگی حکمتِ عملی تبدیل کرتے ہوئے ایک انتہائی خطرناک قدم اٹھا لیا ہے۔ امریکی فوج نے ایران پر حملوں کے لیے اپنا طویل فاصلے تک مار کرنے والا خوفناک ‘B-1 اسٹریٹجک بمبار طیارہ’ میدان میں اتار دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس طیارے نے برطانیہ کے فضائی اڈے سے اڑان بھری اور پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں پر قیامت ڈھائی۔ ویوورز، یہ طیارہ کم بلندی پر آواز سے بھی تیز رفتار سے اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور ایک ہی وقت میں دو ہزار پاؤنڈ وزنی دو درجن بم یا درجنوں کروز میزائل لے جا سکتا ہے۔

اس امریکی جارحیت کے نتیجے میں ایران کے اندر بھی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ خوزستان کے نائب گورنر کے مطابق، ایران عراق سرحد پر شلمچہ کراسنگ کے مسافر ٹرمینل پر امریکی حملے میں 2 افراد شہید اور 11 زخمی ہوئے ہیں، تاہم حکام کے مطابق زائرین کی آمدورفت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔

ویوورز! اگر امریکا نے اپنا جنگی ہتھکنڈا بدلا ہے، تو ایران بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل امیر محمد اکرمینیا نے سخت وارننگ دی ہے کہ مفاہمتی یادداشت ٹوٹنے کے بعد جنگ اب نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر امریکا نے جنوبی ایرانی انفراسٹرکچر پر حملے نہ روکے، تو ایران ایسی نئی اور تباہ کن حکمتِ عملی اپنائے گا کہ جارح قوتوں کے لیے جنگ جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔ اور تو اور ناظرین، پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر جنرل سید مجید موسوی نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ اگر ایران کے پلوں اور بجلی گھروں پر آنچ آئی، تو خطے میں موجود امریکی اتحادیوں اور میزبان ممالک کو بھی شدید اندھیروں کا سامنا کرنا پڑے گا!

ناظرین! اس دھمکی کے ساتھ ہی ایران نے عملی وار بھی کر دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں امریکی فوجی اڈے پر تابڑ توڑ حملے کر کے امریکا کے جدید ترین THAAD میزائل دفاعی نظام کے ریڈار، پیٹریاٹ سسٹم اور C-RAM ریڈار کو تباہ کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔ حملے میں امریکی اڈے پر موجود ایندھن کے ذخائر اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے شیڈز بھی جل کر خاکستر ہو گئے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی ویوورز! ‘آپریشن صاعقہ’ کے تحت ایرانی فوج نے کویت میں بھی 3 بڑے امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ الدوحہ کیمپ، علی السالم ائیر بیس اور عارفجان کیمپ پر ڈرونز کی بارش کی گئی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایک بڑا اسلحہ گودام، پیٹریاٹ نظام، اور MQ-9 ڈرونز کے ہینگرز تباہ کر دیے گئے ہیں۔ العدیری کیمپ میں امریکی رہائشی تنصیبات اور ہیلی کاپٹر ہینگرز پر حملے سے متعدد امریکی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ یہاں تک کہ امریکا کی جانب سے ایران میں مواصلاتی ٹاور گرانے کے جواب میں، سپاہ پاسداران نے بھی کویت میں امریکی مواصلاتی ٹاور کو اڑا دیا ہے!

کیا خطہ اب کسی فیصلہ کن اور مکمل جنگ کی طرف جا رہا ہے؟ اس گھمسان کی جنگ کی ہر اور ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں