0

امریکا ایران جنگ کے چھٹے مہینے میں داخل، انجام اب بھی نامعلوم

ناظرین! امریکا اور ایران کی جنگ کل اپنے چھٹے مہینے میں داخل ہونے جا رہی ہے، لیکن اس کا اختتام دور دور تک نظر نہیں آ رہا۔ کبھی امریکا مذاکرات کی بات کرتا ہے تو کبھی ایران کڑی شرائط رکھ دیتا ہے۔ اس ‘ہاں اور ناں’ کے کھیل نے پورے خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنا بیان بدل لیا ہے۔ جو ٹرمپ کچھ عرصہ قبل اس جنگ کو 4 سے 6 ہفتوں میں ختم کرنے کے دعوے کر رہے تھے، انہوں نے اب عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں اور نہ ہی اس کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ امریکی اقتصادی اور فوجی حملے دونوں مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور ایران میں مہنگائی اور معاشی مشکلات سے حکومت کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔
ناظرین! ٹرمپ کے ان دعووں میں کسی حد تک سچائی بھی ہے۔ جنگ اور حالیہ امریکی ‘آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ’ کی وجہ سے عام ایرانی شہری شدید اذیت کا شکار ہے۔ آزاد مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 20 لاکھ سے بھی نیچے گر چکی ہے۔ تصور کریں ویوورز، جنگ سے پہلے 20 لاکھ ریال میں 4 کلو ٹماٹر، آدھا کلو مرغی اور کوکنگ آئل آ جاتا تھا، لیکن آج اسی رقم میں بمشکل اس کا آدھا سامان مل پاتا ہے۔ خوراک اور ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
ویوورز! ٹرمپ کے اس سخت بیان کے بعد خطے میں سفارتی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کا ماحول بنانے کے لیے قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آج ایک ہنگامی دورے پر تہران پہنچ رہے ہیں۔ قطری دفتر خارجہ کے مطابق وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت پر بات چیت کریں گے۔
لیکن ناظرین، ایک طرف سفارتکاری ہو رہی ہے تو دوسری جانب آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی ہے۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق، آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر کو نامعلوم سمت سے آنے والے پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا ہے جس سے جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز بدستور بند ہے اور اسے مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو 17 جون کے مفاہمتی معاہدے پر واپس آنا ہوگا۔
ناظرین! امریکی پابندیوں کے جواب میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل اور طنز سامنے آیا ہے۔ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی معاشی تنہائی کے منصوبے کو ‘مذاق’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنی نام نہاد کامیابی دکھانے کے لیے بحرین جیسے ملک سے رجوع کر رہا ہے، جس کے ساتھ ایران کا کوئی قابل ذکر معاشی لین دین ہے ہی نہیں۔
لیکن ویوورز، طنز اپنی جگہ، ایرانی حکومت اندرونی طور پر انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا کر رہی ہے۔ حکومت نے خبردار کر دیا ہے کہ آئندہ ایک سال عوام کے لیے سخت ترین مشکلات کا سال ہوگا۔ ایرانی وزیر معیشت نے 2 سالہ منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت ضروری اشیاء، سونا اور غیر ملکی کرنسی جمع کی جا رہی ہے اور توانائی کی راشن بندی شروع ہو چکی ہے۔ مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ، یعنی تیل کی برآمدات، تقریباً بند ہو چکی ہیں، لیکن ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس ایسے مقامات پر خفیہ نقد ذخائر موجود ہیں جہاں امریکا کی رسائی ممکن نہیں۔
ناظرین! حالات اتنے سنگین ہیں کہ ایرانی سیکیورٹی سربراہ محسن رضائی نے نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے گھروں اور مقامی برادریوں کے لیے ضروریات کی اشیاء خود تیار کریں۔ اگرچہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اپنی غذائی ضروریات کا 85 فیصد خود پیدا کرتی ہے، لیکن اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ درآمدی اخراجات اور ترسیلی نظام میں رکاوٹوں کی وجہ سے ایران میں غذائی مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عوام کی قوتِ خرید تیزی سے دم توڑ رہی ہے۔
کیا قطر کی سفارتکاری اس ڈیڈلاک کو توڑ پائے گی یا آبنائے ہرمز کے حملے خطے کو مزید تباہی کی طرف لے جائیں گے؟ اس گھمسان کی جنگ اور معاشی بحران کی ہر ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے سے کمنٹ سیکشن میں ضرور آگاہ کریں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں