ناظرین! مشرق وسطیٰ کا بحران اب ایک ایسے سنگین موڑ پر آ گیا ہے جہاں ایک طرف ایٹم بم گرانے کی باتیں ہو رہی ہیں تو دوسری جانب بحری ناکہ بندیاں توڑنے کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت میں مزید توسیع سے صاف انکار کرتے ہوئے تہران سے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالنے اور سفید پرچم لہرانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ان کی ٹیم ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ براہ راست بات چیت کر رہی ہے، لیکن پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے فوری طور پر اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ جنرل محبی نے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی سفارتی یا فوجی بات چیت نہیں ہو رہی، اور ٹرمپ کے یہ بیانات محض تیل کی قیمتوں کو عارضی طور پر کنٹرول کرنے کا ایک ڈرامہ ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ امریکی صدر کے خیالی تصورات میدانِ جنگ میں ان کے کسی کام نہیں آئیں گے اور واشنگٹن کے پاس اب واحد راستہ یہی بچا ہے کہ وہ اپنی شکست تسلیم کر کے ایرانی شرائط کو مان لے۔
ناظرین! اس کشیدگی کے دوران امریکا سے ایک ایسی لرزہ خیز خبر سامنے آئی ہے جس نے پوری دنیا کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکا کی سابق رکنِ کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن کے خفیہ اجلاسوں میں ایران کے خلاف ‘جوہری ہتھیار’ استعمال کرنے پر باقاعدہ گفتگو کی جا رہی ہے۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس تباہ کن آپشن کو فوراً مسترد کرے کیونکہ اس سے ہیروشیما اور ناگاساکی جیسا طویل مدتی انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ مارجوری ٹیلر کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران ایٹم بم بنانے کے قریب بھی نہیں تھا، مگر اس کے باوجود امریکا نے اسکول کے بچوں اور معصوم شہریوں پر بمباری کی۔
ویوورز! امریکی ہٹ دھرمی کو دیکھتے ہوئے ایران نے بھی اب آر یا پار کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث 60 روزہ مذاکراتی مدت اب بے معنی ہو چکی ہے۔ ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ایران امریکی بحری ناکہ بندی کو توڑنے کے لیے انتہائی جارحانہ فوجی پوزیشن اختیار کرے گا اور بروقت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ اسی حوالے سے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دشمن کی ایران سے ہتھیار ڈالوانے کی امید خاک میں مل گئی ہے۔ ایران نے بھرپور طاقت سے جنگ لڑی اور امریکا کو مذاکرات کے لیے منت سماجت پر مجبور کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مفاہمتی یادداشت کو ناکام بنانے کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ اور رکاوٹ صہیونی حکومت کا ہے۔
ناظرینِ گرامی! سفارتی محاذ کے ساتھ ساتھ خطے میں پراسرار حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عراق کے کردستان علاقے میں وزیراعظم مسرور برزانی کے دفتر پر ہونے والے ڈرون حملے کو ایرانی وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کا ‘فالس فلیگ آپریشن’ قرار دیا ہے۔ انہوں نے عراقی ہم منصب کو واضح کیا ہے کہ اس حملے کا ایرانی سرزمین سے کوئی تعلق نہیں اور یہ صرف کردوں اور پڑوسیوں کے درمیان نفرت کے بیج بونے کی سازش ہے۔ دوسری جانب، یمن کے حوثی باغیوں نے ایک بار پھر سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہوئے جازان کے صوبے میں ایک آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی حکام کی جانب سے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اور آخر میں ویوورز! جنگ کے اس ماحول نے ایران کی معیشت کا بھرکس نکال دیا ہے۔ ایران میں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد کی خوفناک سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں 128 فیصد کا ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ روزمرہ کی آٹھ بنیادی اشیاء کی قیمتیں صرف ایک سال کے اندر دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں جس سے عام ایرانی شہری کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
کیا امریکا واقعی ایران پر ایٹمی حملہ کر سکتا ہے؟ یا پھر ایران کی جارحانہ حکمت عملی امریکی ناکہ بندی کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ دنیا بھر کی ہر سچی اور ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!