0

ایرانی پراکسیز کی جانب سے درپیش خطرے کے سبب نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو طیارہ بدلنا پڑا

واشنگٹن: امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہےکہ ایرانی پراکسیز کی جانب سے درپیش خطرے کے سبب نیٹو سربراہ اجلاس کےدوران صدر ٹرمپ کو طیارہ بدلنا پڑا تھا۔ 

نیویارک ٹائمز کےمطابق ایران کی جانب سے لاحق خطرے کے سبب خفیہ سروس کے اہلکاروں نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ترکیہ سے روانگی کے موقع پر قطر کا دیا ہوا نیا ائیرفورس ون استعمال کرنے کی بجائے پرانا ائیرفورس ون استعمال کریں۔

صدرٹرمپ کی جانب سے اس مشورے پر عمل نے قطرکی جانب سے تحفہ میں دیے گئے طیارے کے سکیورٹی فیچرز پر سوال کھڑے کر دیے تھے۔

دعویٰ کیا گیا ہےکہ صدرٹرمپ اور ائیرفورس ون دونوں ہی کو خطرات لاحق تھے۔

نیویارک ٹائمز نے یہ دعویٰ ایسے وقت بھی کیاہے جب صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں اور کابینہ اراکین سے ملاقات کی ہے جس میں اس بات پر غور کیا گیا ہے کہ آیا ایران پر حملوں میں شدت لائی جائے یا نہیں۔

 یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 7 جولائی کو ترکیے میں منعقد نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کیلئے نئے ائیرفورس ون میں گئے تھے جبکہ صدر ٹرمپ نے ترکیے سے انگلینڈ سفر کیلئے پرانے ائیرفورس ون طیارےکا استعمال کیا تھا۔

امریکی اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ نے آخری لمحات میں طیارہ خفیہ سروس کی سفارش پربدلا تھا، نئے طیارے میں مخصوص سکیورٹی اور انسداد دہشگردی اقدامات کی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔ اس حوالے سے محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ ہدف رپورٹر نہیں بلکہ وہ ہیں جنہوں نے خفیہ معلومات افشا کیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں