0

ایران امریکا جنگ بندی کے باوجود لفظی جنگ شدت اختیار کرگئی، جبکہ معاہدے پر اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی نئی صف بندیوں کا اشارہ دے رہی ہے۔

ناظرین۔۔۔
ایران اورامریکا کےدرمیان جنگ بندی ہوچکی ہے، معاہدہ طےپاچکاہےلیکن لفظی جنگ رکنے کانام ہی نہیں لےرہی ،ایک طرف صدرٹرمپ تابڑتوڑ لفظی گولہ باری کررہےہیں تودوسری جانب ایرانی حکام اس لفظی گولہ باری کامنہ توڑ جواب دینے میں مصروف ہیں ، ماحول گرم ہے،لفظی گولہ باری سے فریقین ایک دوسرے کوتاک تاک کرنشانے لگانے میں مصروف ہیں ۔۔یوں لگ رہاہے اب ساراجنگ لفظوں کےساتھ ، گرماگرم بیانات کےساتھ لڑی جاری ہے۔۔
اپنےتازہ ترین لفظی میزائل میں صدرٹرمپ کہتےہیں ۔ ایران معاہدے کے نتیجے میں بہت بڑی رعایتیں دے رہا ہے اور امریکا جیت رہا ہے۔نیٹو چیف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ نیٹو نے ایران کےخلاف جنگ میں ہمیں مایوس کیا، ایران کے خلاف جنگ میں یورپ نے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا، میں ایران کے معاملے پربرطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی سے مایوس ہوں۔سینیٹ روانگی سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کی کسی وضاحت کے کہا کہ چیزیں بہت اچھی طرح سے چل رہی ہیں اور ہم ایران سے جنگ جیت رہے ہیں۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے امریکا سے آبنائے ہُرمُز سے کوئی ٹول ٹیکس نہ لینے کا کہا ہے، اگر یہ ’’فیک نیوز‘‘ ہے تو مذاکرات فوری ختم سمجھیں۔ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر جلی حروف میں لکھا ’’آبنائے ہُرمُز سے گزرنے والے جہازوں سے ایران نہ ٹول ٹیکس، نہ انشورنس کی رقم اور نہ کسی اور مد میں کوئی رقم مانگے گا اور نہ وصول کرے گا‘‘ ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو اس کے منجمد اثاثوں میں سے کوئی فنڈز ریلیز کرنے کی بھی تردید کرتےہوئے کہا کہ ایران امریکی کسانوں سے خوراک خریدے، خوراک کی ادائیگی منجمد اثاثوں میں سے ہوگی۔
ناظرین۔۔۔دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہاہے کہ ایران سے رابطے کے بغیر آبنائے ہرمزکے لیے کسی بھی نئے بحری راستے کا اعلان ناقابل قبول اور انتہائی خطرناک ہے۔پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ صرف ان مخصوص روٹس کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ایران نے باقاعدہ طور پر مقرر کیے ہیں۔ایرانی پاسداران نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے، ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کہتےہیں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی یقینی بنائی جائے گی، اس آبی گزرگاہ سے کوئی بھی ملک ٹیکس وصول نہیں کر سکتا۔ بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ تکنیکی ٹیمیں 30 جون کو دوبارہ سوئٹزر لینڈ جائیں گی جہاں ایران سے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق بات کریں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسا پائیدار امن چاہتے ہیں جو حقیقی ہو اور ہماری اور ہمارے اتحادیوں کی سیکیورٹی اور خوش حالی کو نقصان نہ پہنچاتا ہو، ہم یقینی بنائیں گے کہ ایسا کوئی فیصلہ نہ ہو جو ہمارے اتحادیوں کے مفادات کے خلاف ہو۔
مارکو روبیو نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ہمارے اتحادیوں کے مفادات کا خیال رکھا جائے، امریکا ایران کے ساتھ معاہدے کو کامیاب کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، ہم یہ قبول نہیں کریں گے کہ کہ آبنائے ہرمز کسی ایک ملک کی ملکیت ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدہ چاہتے ہیں، مگر کسی بھی قیمت پر معاہدہ نہیں چاہتے۔دوسری جانب ایران نے امریکا سے ایم او یو پر واضح مؤقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
جوابی لفظی گولہ باری میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایم او یو سے متعلق امریکا کے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔اسماعیل بقائی کے مطابق ایسے بیانات ایرانی عوام کے عدم اعتماد کو کم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ امریکا کو ایم او یو کے واضح متن کے منافی تشریحات سے گریز کرنا چاہیے۔
ناظرین۔۔ایران سے معاہدہ کرنے پر اسرائیل امریکا سے سخت ناراض ہوچکاہے کل اس کےدووزا نے امریکا مخالف بیان دےکراپنی بھڑاس نکالی وزیردفاع نے یہاں تک کہ دیا کہ ہم لبنان سے امریکا کےکہنے پربھی فوج نہیں نکالیں گے اور آج اسرائیل نے امریکا سے کہہ دیاہے کہ اپنے جہازہمارے ائیرپورٹ سےلےجائیںاسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ائیرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے امریکا سے مرکزی بن گورین ائیرپورٹ سے ایندھن بردارجہاز ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ امریکا پہلے ہی بن گورین ائیرپورٹ سے 28 ایندھن بردار طیارے منتقل کر چکا ہے تاہم اسرائیل نے اب مزید 20 فوجی طیارے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے امریکا کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ موسم گرما میں شہری پروازوں میں خلل کا خدشہ ہے، امریکی ایندھن بردار جہازوں نے مسافرپروازوں کی آمدورفت کو متاثر کیا ہے۔اس کے علاوہ اسرائیل نے امریکا سے بن گورین ائیرپورٹ پر فوجی طیاروں کی تعداد کم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
ناظرین ۔۔بظاہریہ لگ رہاہے ،ایران ڈیل کےمعاملے پرامریکا اور اسرائیل کےدرمیان دراڑآچکی ہے،فاصلے بڑھ گئےہیں ،یہ بھی رپورٹس آرہی ہیں کہ امریکا میں اسرائیل نوازلابی اس وقت بیک فٹ پرجاچکی ہے نیویارک کو یہودی لابی کاگڑھ سمجھاجاتاتھاوہاں سے پرائمری انتخابات میں اسرائیل نوازامیدواروں کوبدترین شکست کاسامناکرناپڑاہے،،امریکا میں ہوابدل رہی ہے،،حالات بدل رہےہیں۔۔غزہ کےمسلمانوں پرظلم کرنےوالے اسرائیل کےدن پورے ہوچکےہیں۔۔اس کازوال شروع ہوچکاہے۔۔بےگناہوں کاخون اسرائیل کی تاریخ میں کلنک کےٹیکے کی طرح ہمیشہ موجود رہےگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں