ناظرین! مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل اب اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ کسی بھی وقت ایک ایسا طوفان آ سکتا ہے جو پورے خطے کا نقشہ بدل کر رکھ دے گا۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکی ایوانوں سے جو خبریں چھن کر باہر آ رہی ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ امریکی عہدیداروں اور وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران پر ایک بے حد بڑے اور تازہ حملے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حملے اسی ویک اینڈ پر متوقع ہیں اور ان کا دورانیہ کئی روز یا دو ہفتوں تک محیط ہو سکتا ہے۔ اس بار نشانے پر کوئی معمولی عمارتیں نہیں، بلکہ ایران کا توانائی کا انفراسٹرکچر اور تہران کے جنوب میں واقع انتہائی حساس ‘پکیکس ماؤنٹین’ کی جوہری تنصیبات ہیں۔ امریکی صدر نے کابینہ اجلاس میں واضح کر دیا ہے کہ امریکا کو اس جنگ میں صرف اور صرف فتح چاہیے اور وہ ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر کے دم لیں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ امریکی حملوں سے ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام پہلے ہی تقریباً تباہ ہو چکے ہیں اور اب ایران کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی بھی کوشش قابلِ قبول نہیں۔
ناظرینِ گرامی! امریکا کے ان جارحانہ ارادوں کو دیکھتے ہوئے ایران نے بھی اپنا سب سے بڑا اور خطرناک کارڈ کھیل دیا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو کہ دنیا کے تیل کی ترسیل کی سب سے بڑی شہ رگ ہے، اس کی بحری ٹریفک کی نگرانی کرنے والی ایرانی اتھارٹی نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ امریکی جارحیت کے باعث اس راستے سے جہاز رانی اب ممکن نہیں رہی۔ انہوں نے تمام اجازت نامے منسوخ کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ جب تک خطے میں استحکام بحال نہیں ہوتا، یہ راستہ بند رہے گا۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے قوم کا لہو گرماتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران یہ جنگ جیت چکا ہے اور اب اس فتح کو دستاویزی شکل دینی ہے۔ ایرانی خاتم الانبیا بریگیڈ کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے تو امریکا کو یہاں تک دھمکی دے دی ہے کہ جارحیت کر کے بھاگنے کا دور اب ختم ہوا، امریکی فوجیوں کو اب اپنے سامان میں کفن رکھ کر آنا چاہیے۔
ویوورز! اس ساری صورتحال میں عمان کے ساحل پر ایک ہی دن میں دو انتہائی پراسرار بحری واقعات پیش آئے ہیں۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق، عمان کے علاقے لیما کے قریب ایک آئل ٹینکر کے انجن روم کو نامعلوم ہتھیار سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے جہاز اپنا کنٹرول کھو بیٹھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد خصب شہر کے قریب ایک اور ٹینکر کے کپتان نے جہاز کے بالکل قریب پانی میں زوردار دھماکے کی اطلاع دی ہے۔ ادھر یمن کی طرف سے حوثیوں کے ہیومینیٹیرین آپریشنز کوآرڈینیشن سینٹر نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ باب المندب سے گزرنے والے جہازوں سے کوئی فیس وصول کر رہے ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ راستہ مکمل مفت ہے اور فیس مانگنے والا کوئی بھی ادارہ یمن کی نمائندگی نہیں کرتا۔
ناظرین! جنگ کے اس عروج پر اب بات کرتے ہیں خود امریکا کی اندرونی حالت کی۔ کیا امریکا واقعی اس طویل جنگ کا بوجھ اٹھا پا رہا ہے؟ فاکس نیوز اور امریکی تھنک ٹینک ‘سی ایس آئی ایس’ کے تہلکہ خیز اعداد و شمار کے مطابق، پینٹاگون اس وقت میزائل دفاعی انٹرسیپٹرز کی شدید ترین قلت کا شکار ہو چکا ہے۔ تنازع شروع ہونے سے پہلے امریکا کے پاس پیٹریاٹ میزائلوں کا ذخیرہ 2 ہزار 300 کے قریب تھا، جو اب اندھا دھند استعمال کے بعد سکڑ کر بمشکل 827 رہ گیا ہے۔ اسی تناظر میں آسٹریا کے معروف دفاعی تجزیہ کار وولف گینگ پسٹائی نے بھی واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ امریکا کے لیے آبنائے ہرمز میں ایرانی خطرے کا مکمل خاتمہ اب ناممکن ہو چکا ہے، وہ زیادہ سے زیادہ صرف حملوں کی شدت کو محدود کر سکتا ہے۔
کیا یہ جنگ اب واقعی کسی فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے؟ مشرقِ وسطیٰ کے اس سلگتے ہوئے محاذ کی ہر سچی اور ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

