0

ایران اور امریکا کی جنگ میں امریکی فوج کو بڑھتے جانی نقصان نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کو مزید سنگین بنا دیا۔

ناظرین! امریکا اور ایران کے درمیان جاری ہولناک جنگ اب ایک ایسے خطرناک موڑ پر آ پہنچی ہے جہاں سپر پاور امریکا کی صفوں سے جنازے اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔ خطے میں بارود کی بو مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکا جو دنیا بھر میں اپنی فوجی طاقت کا لوہا منواتا تھا، آج مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجیوں کی لاشیں اٹھانے پر مجبور ہے۔ امریکی فوج نے اس تلخ حقیقت کا باقاعدہ اعتراف کر لیا ہے کہ شمالی عراق میں ان کا ایک فوجی اس وقت مارا گیا، جب وہ ایک تباہ کن ایرانی ڈرون کے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ 18 جولائی کو پیش آیا، جس میں ایک اور امریکی اہلکار زخمی بھی ہوا۔ لیکن ناظرین، سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ مارے جانے والے اس امریکی فوجی کی شناخت کو تاحال انتہائی صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔ پینٹاگون مکمل طور پر خاموش ہے، آخر امریکا کیا چھپانا چاہتا ہے؟ کیا ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے؟
ناظرینِ گرامی! موت کا یہ رقص صرف شمالی عراق تک محدود نہیں، خطے کا کوئی امریکی اڈہ اب ایرانی حملوں سے محفوظ دکھائی نہیں دیتا۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے خود اس خوفناک سچائی سے پردہ اٹھایا ہے کہ اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے پر داغے گئے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کے سیدھے حملے میں ان کے مزید 2 فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اردن، جسے امریکا محفوظ ترین قلعہ سمجھتا تھا، وہاں بھی ایرانی میزائلوں نے امریکی فضائی دفاعی نظام کو باآسانی چکمہ دے کر اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔
ویوورز! 28 فروری کو شروع ہونے والی اس تباہ کن جنگ نے اب تک امریکا کو گہرے اور کاری زخم دیے ہیں۔ امریکی فوج کے اپنے سرکاری اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ اس خونی تصادم میں اب تک 17 امریکی فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ناظرین، طویل عرصے بعد امریکی فوج کو اس قدر تیزی سے جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ 17 ہلاکتیں امریکی عوام میں شدید بے چینی پیدا کر رہی ہیں، اور ان فوجیوں کے لواحقین اب حکومت سے پوچھنے پر مجبور ہیں کہ ان کے بچوں کو کس کی جنگ کا ایندھن بنایا جا رہا ہے۔
ویوورز! دوسری طرف ایران کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واشنگٹن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک ایسا دو ٹوک اعلان کر دیا ہے جس نے امریکی ایوانوں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ عباس عراقچی کا واضح الفاظ میں کہنا ہے کہ ‘امریکا سے یہ جنگ اس وقت تک ہرگز ختم نہیں ہو گی، جب تک ایران کو اس میدان میں مکمل اور حتمی برتری حاصل نہیں ہو جاتی!’
ناظرین! سفارتی ماہرین کے مطابق یہ امریکا کے لیے ایک کھلا اعلانِ جنگ ہے! تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی سب سے بڑی طاقت یہ مسلسل جانی نقصان برداشت کر پائے گی؟ یا پھر مشرقِ وسطیٰ کے یہ سلگتے صحرا امریکا کے لیے ایک نیا قبرستان بننے جا رہے ہیں؟ مشرقِ وسطیٰ کے اس محاذ کی ہر تازہ ترین اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کرنا مت بھولیں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں