ناظرین! ایران کے شہروں میں دھماکوں کی گونج، امریکا کی تیزی سے ختم ہوتی ہوئی اسلحہ کی سپلائی، اور صدر ٹرمپ کی سعودی عرب کو ایک ایسی شرط جس نے مشرقِ وسطیٰ میں نیا بھونچال لا دیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس تازہ ترین ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! امریکا اور ایران کی اس ہولناک جنگ میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، مختلف شہروں میں تازہ امریکی حملوں سے جانی نقصان رپورٹ ہوا ہے۔ خوزستان کے شہر اہواز کے قریب امریکی میزائل حملے میں 4 افراد شہید اور 5 زخمی ہو گئے ہیں۔ لرستان کے شہر خرم آباد اور بندر عباس میں ڈرون حملوں سے مزید 4 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ اندیمشک اور امیدیہ میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ہیں۔
دوسری جانب، ناظرین، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے فخریہ اعلان کیا ہے کہ انہوں نے مسلسل 13ویں رات بھی ایران کے خلاف فضائی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔ سینٹکام کے مطابق ایران کے فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو اڑا دیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ لیکن اس امریکی بمباری کے جواب میں، ایران کی فوج نے بھی ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کرتے ہوئے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی اڈوں پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔
ویوورز! اس خونی تصادم کو روکنے کے لیے واشنگٹن نے عراقی وزیراعظم علی الزیدی کے ذریعے جنگ بندی کی ایک تجویز تہران بھیجی تھی۔ لیکن نیویارک ٹائمز کے مطابق، ایران نے اس امریکی پیشکش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف دو ٹوک ہے: “عارضی جنگ بندی قابلِ قبول نہیں کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔” ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ مسئلہ پیغامات پہنچانے کا نہیں، بلکہ امریکا کے ‘غیر منطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول کرنے والے رویے’ کا ہے۔ تاہم الجزیرہ سے گفتگو میں ایک سینئر ایرانی سفارت کار نے واضح کیا کہ تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا، لیکن 17 جون کے ایم او یو سے امریکا کا پیچھے ہٹنا ہی اس بحران کی جڑ ہے۔
اور ناظرین! اس جنگ میں ایک نیا اور انتہائی خطرناک موڑ آ گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا ہے کہ امریکا اپنی تحویل میں موجود ایران کے ضبط شدہ فنڈز کو بحری جہازوں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کرے گا۔ اس پر عباس عراقچی نے سخت ترین ردعمل دیتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے ضبط کر کے انہیں اپنے نقصانات کے لیے استعمال کرنا ایک انتہائی اشتعال انگیز قدم ہے۔ انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ اگر حکومتوں نے یہ طریقہ اپنا لیا، تو پھر کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے اور دنیا میں کبھی نہ ختم ہونے والا انتشار پھیل جائے گا۔
ویوورز! اب آتے ہیں اس جنگ کے سب سے حیران کن پہلو کی طرف۔ ایران پر بمباری کا نشہ امریکا کو بہت مہنگا پڑ رہا ہے۔ پینٹاگون کے سابق عہدیدار مارک کینشین نے الجزیرہ کو ایک تہلکہ خیز انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ میں اپنے 7 انتہائی اہم ہتھیاروں کا ایک تہائی سے نصف تک حصہ پھونک دیا ہے! ناظرین، یہ وہی مہنگے بیلسٹک اور کروز میزائل ہیں جو تائیوان جنگ یا کسی اور بڑے تنازع کے لیے رکھے گئے تھے۔ مارک کینشین کے مطابق اس ضائع شدہ اسلحے کو دوبارہ بنانے میں 2 سے 5 سال لگیں گے، اور اس دوران امریکا کسی بھی نئی جنگ کے لیے انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ امریکا اس جنگ پر اب تک ساڑھے 37 ارب ڈالر ضائع کر چکا ہے اور وزیرِ دفاع نے مزید 70 ارب ڈالرز مانگ لیے ہیں۔
اور آخر میں ویوورز! صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے کے لیے ایک ایسی نئی اور کڑی شرط رکھ دی ہے جس نے دنیا کو حیران اور سعودی عرب کو پریشان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام اعلان کیا ہے کہ اگر سعودی عرب امریکا کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تو اسے پہلے ‘ابراہیمی معاہدے’ میں شامل ہو کر اسرائیل کو تسلیم کرنا ہوگا!
ناظرین، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سول جوہری توانائی حاصل کرنے کی خواہش کئی دہائیوں پرانی ہے، کیونکہ وہ اپنی معیشت کو صرف تیل پر انحصار کرنے سے بچانا چاہتا ہے۔ لیکن سعودی قیادت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا سعودی عرب اس دباؤ میں آکر اسرائیل کو تسلیم کرے گا، یا ٹرمپ کی یہ بلیک میلنگ ناکام ہوگی؟
اس بدلتی ہوئی عالمی سیاست اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی ہر ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!
پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
ابھی ایران کو زیادہ تکلیف نہیں پہنچی، بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں: ٹرمپ کی دھمکی
بے سوچے سمجھے جارحیت ٹرمپ کو بھاری قیمت چکانے پر مجبور کرے گی: ایرانی وزیر خارجہ
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے اسکائی 47 ڈیٹا سینٹر “قراقرم ون” کا افتتاح کردیا
بلاول! کشمیر کو کشمور نہ سمجھنا ، یہ میر پور ہے ، میر پور خاص نہیں: نواز شریف کا چیئرمین پیپلز پارٹی کو جواب
جتنی خطرناک سازشیں نوازشریف کیخلاف ہوئیں عوام کی سپورٹ نہ ہوتی تو ہمارا نام ختم ہوجانا تھا: مریم
ٹانک میں فتنہ الخوارج کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، 12خوارج ہلاک، وطن کے 15 بہادر سپوت شہید