ناظرین! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی جلتی ہوئی آگ میں ایک ایسا بیان داغ دیا ہے جس نے پوری دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز اور تفصیلی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی ٹی وی پر ایک انتہائی جارحانہ اور حیران کن اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بہت جلد ‘آبنائے ہرمز’ کو امریکا کا باقاعدہ علاقہ قرار دینے والے ہیں اور ایران کو تاریخ کا بدترین معاشی نقصان پہنچائیں گے۔ یہ بیان آنا تھا کہ پوری دنیا میں کھلبلی مچ گئی، جس کے بعد وائٹ ہاؤس کو فوراً ڈیمیج کنٹرول کے لیے میدان میں آنا پڑا۔ وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیدار نے وضاحت دی کہ ٹرمپ نے یہ بات جنگ کے بعد کی صورتحال پر اپنے مشیروں سے ڈسکس کیے بغیر محض ایک ‘مذاق’ کے طور پر کہی تھی۔ لیکن ناظرین، اس تقریر میں موجود امریکی صحافی برائن شوارٹز کا دعویٰ کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ یہ بات کہنے کے بعد مسکرائے ضرور تھے، لیکن ان کا انداز اور تیور صاف بتا رہے تھے کہ وہ یہ سب بالکل سچ اور سنجیدگی سے کہہ رہے تھے۔
اس متنازع بیان کے جواب میں ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ایران امریکی دھمکیوں یا طاقت سے ہرگز مرعوب نہیں ہوگا۔ انہوں نے ٹرمپ کو کھلی وارننگ دی کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا یا بند کرنا صرف اور صرف ایران کے اختیار میں ہے، امریکا کا وہاں کوئی عمل دخل نہیں۔ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکا کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، قطر اور پاکستان کے ذریعے صرف پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے، جسے مذاکرات کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
ناظرین! امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن خود امریکی ماہرین اس اقدام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ سابق امریکی سفیر مارک گنسبرگ نے اسے ‘معاشی اعصابی جنگ’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں بالآخر واشنگٹن کو ہی پیچھے ہٹنا پڑے گا کیونکہ وائٹ ہاؤس کے پاس کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں ہے۔
لیکن ویوورز، اس سے بھی بڑا اور چشم کشا انکشاف امریکی قومی سلامتی کے ماہر اور سابق میرین افسر ڈین گریزیئر نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران 1979 سے پابندیوں کا عادی ہے اور معاشی جنگ اسے کبھی جھکنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے پینٹاگون کا راز فاش کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا کا معاشی دباؤ پر انحصار دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی فوج کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے! امریکا 6 ماہ کی فوجی کارروائیوں میں کچھ حاصل نہیں کر سکا، اور اب گولہ بارود بچانے کے لیے اس نے معاشی جنگ کا سہارا لیا ہے۔
اور ناظرینِ گرامی! امریکی فضائیہ کے سابق کمانڈر گلین وان ہرک نے تو امریکا کی عسکری کمزوریوں پر مہر ہی ثبت کر دی ہے۔ انہوں نے الاباما میں ایک کانفرنس کے دوران اعتراف کیا کہ کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایران کے محض تین F-5 جنگی طیاروں نے جو تباہ کن بمباری کی، وہ امریکا کے لیے ایک ویک اپ کال تھی۔ سابق امریکی جنرل نے انتہائی شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایک فوجی کے طور پر یہ بات ماننا ان کے لیے باعثِ شرم ہے کہ ڈرونز اور ایرانی فضائی ذرائع سے امریکی فورسز کو اس قدر شدید اور رسوا کن نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
ویوورز! اب آتے ہیں یمن کے محاذ پر، جہاں حوثیوں نے تباہی مچا رکھی ہے۔ حوثی گروپ سے وابستہ خبر رساں ادارے صبا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ڈرونز کے ذریعے سعودی شہر نجران میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی ‘آرامکو’ کو نشانہ بنایا ہے، اگرچہ سعودی حکام نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ اس کے علاوہ حوثیوں نے یمن کی المخا پورٹ پر بھی خونی حملہ کیا ہے، جس میں 2 سیلرز اور ایک سیکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 8 شہری زخمی ہوئے ہیں۔ یمنی وزیرِ خارجہ افراح الزوبہ نے اس جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ باب المندب کسی مسلح دہشت گرد گروپ کے دباؤ کا ذریعہ نہیں بنے گا۔
کیا ٹرمپ واقعی آبنائے ہرمز پر قبضے کا پاگل پن کر گزریں گے؟ یا امریکا کا ختم ہوتا ہوا گولہ بارود اسے جنگ بند کرنے پر مجبور کر دے گا؟ اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کی ہر سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!
ایران کا امریکا کو دوٹوک جواب، ہرمز کھولنے کا اختیار کس کے پاس؟
بابر اعظم پریکٹس میچ میں زخمی، انگلینڈ ٹیسٹ سے قبل خطرے کی گھنٹی
انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا شدید زلزلہ، مختلف حادثات میں 20 افراد جاں بحق
مصر کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر سنجیدگی سے غور شروع
ٹرمپ اور ایلون مسک میں صلح، شدید اختلافات کے بعد تعلقات بحال ہوگئے
فیفا صدر انفینٹینو کی کرسی خطرے میں، آئرلینڈ نے حمایت واپس لے لی
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ روانہ، ابراہم لنکن کی جگہ لے گا
ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیوں کی تیاری، امریکی وزیر خزانہ کا بڑا اعلان
پاکستان کا 79واں یومِ آزادی، ملک بھر میں ملی جوش و جذبے سے تقریبات جاری
امریکی بحریہ میں اہلکاروں کی خودکشیوں پر پینٹاگون میں کھلبلی