0

ایران کا عمان کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے لیے نیا ٹرانزٹ میکانزم تیار کرنے کا فیصلہ

تہران(18 مئی 2026): ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے ٹرانزٹ کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ مل کر ایک نیا میکانزم تیار کر رہا ہے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان مسلسل مشاورت جاری ہے۔

پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، جس کے جواب میں تہران کو دفاعی اقدامات اٹھانے پر مجبور ہونا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جس کی اہمیت صرف ایران، عمان اور علاقائی ممالک تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ اس روٹ سے محفوظ ٹرانزٹ کو یقینی بنانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں اور تہران اب بھی اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کا گزر مکمل تحفظ کے ساتھ بہترین ممکنہ طریقے سے ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ آبنائے ہرمز دونوں ساحلی ممالک کی حدود میں واقع ہے، اس لیے ایران اور عمان اس گزرگاہ سے محفوظ ٹرانزٹ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایک ساحلی ریاست کے طور پر ایران پر ہونے والے حملے کے بعد تہران نے اپنی قومی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین اور ایران کے داخلی ضوابط کے عین مطابق ہیں۔

انہوں نے تصدیق کی کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ایران اور عمان کے حکام مسلسل رابطے میں ہیں اور گزشتہ ہفتے مسقط میں دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان ایک اہم اجلاس بھی ہوا ہے، جبکہ اس معاملے پر مشاورت کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔

واضح رہے کہ ایرانی ترجمان کا یہ بیان آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے، جو عالمی توانائی کی تجارت کا ایک انتہائی اہم ترین کوریڈور ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی بلا اشتعال جارحیت کے بعد ایران نے اس گزرگاہ کو اپنے دشمنوں اور ان کے اتحادیوں کے لیے بند کر دیا تھا۔ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ امریکی اقدامات پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے اس سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہیں جو 8 اپریل کو نافذ العمل ہوا تھا اور بعد میں واشنگٹن نے یکطرفہ طور پر اس میں توسیع کی تھی۔ تاہم، اس ناکہ بندی کے باوجود ایرانی خام تیل کی جہاز رانی کی سرگرمیاں بدستور جاری دکھائی دیتی ہیں۔

ترجمان اسماعیل بقائی نے دنیا بھر کے بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیسے دنیا کے مختلف بینکوں میں غیر قانونی طور پر منجمد کیے گئے ہیں، جنہیں فوری آزاد کرنا ہمارا سب سے واضح اور بنیادی مطالبہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ منجمد اثاثوں کی واپسی ہماری کوئی شرط نہیں بلکہ ہمارا برحق اور قانونی حق ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ مقابل فریق ہمیں اپنے پیسے دے، بلکہ جو منجمد اثاثے ہیں وہ ہمارے اپنے ہی ہیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ منجمد اثاثوں کی واگزاری کے ساتھ ساتھ ایران پر عائد تمام عالمی پابندیوں کا خاتمہ بھی ہمارا برحق مطالبہ ہے جسے پورا کیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں