0

سعودی عرب پر میزائل حملوں کا معمہ، ایران کی لاتعلقی نے نئی بحث چھیڑ دی

ناظرین! مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اب ایک انتہائی پراسرار اور خطرناک موڑ آ گیا ہے۔ سعودی عرب پر مسلسل میزائل داغے جا رہے ہیں، لیکن یہ حملے کون کر رہا ہے، اس پر ایران کے ایک حیران کن بیان نے خطے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس تازہ ترین ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویورز۔۔پچھلے چند دنوں سے سعودی عرب اور امریکی مفادات پر عراق اور یمن سے مسلسل حملے ہو رہے تھے، اور دنیا کی انگلیاں سیدھی ایران کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ لیکن اب ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) پر آ کر ان حملوں سے سختی سے اعلانِ لاتعلقی کر دیا ہے۔ عہدیدار کا واضح کہنا ہے کہ دیگر ممالک سے سعودی اہداف پر داغے گئے میزائلوں یا راکٹوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں، اور ہر حملے کا ملبہ تہران پر ڈالنا بڑی غلط فہمی ہے۔
ناظرین، یہ بیان سعودی وزارتِ دفاع کے اس دعوے کے فوراً بعد آیا جس میں ڈرون حملوں کا الزام عراق کی ایران نواز ملیشیا پر لگایا گیا تھا۔ اب یہاں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان پیدا ہوتا ہے: وہ کون سی پراسرار طاقت ہے جو میزائل فائر کر کے سارا ملبہ ایران پر ڈال رہی ہے تاکہ مسلم ممالک آپس میں لڑ پڑیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس خطے میں اسرائیل واحد وہ قوت ہے جو مسلمانوں کو تقسیم کر کے ان پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔ گو کہ ابھی تک کوئی مسلم ملک کھلے عام ایران کے خلاف سامنے نہیں آیا، لیکن اس خفیہ طاقت کی سازشیں عروج پر ہیں۔
لیکن ویوورز! ایران کے اعلانِ لاتعلقی کے باوجود امریکا اور سعودی عرب نے اپنا مشترکہ ایکشن لے لیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے سعودی فضائیہ کے ساتھ مل کر پچھلے 72 گھنٹوں میں مشرقی عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کے لاجسٹک اور اسلحہ ذخائر پر زبردست بمباری کی ہے۔ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ فروری سے اب تک ان گروہوں نے امریکیوں اور سعودی تنصیبات پر 600 سے زائد حملوں کی کوشش کی تھی۔ عراق کے نیم فوجی گروپ ‘حشد الشعبی’ نے تصدیق کی ہے کہ نینوا اور بصرہ سمیت 7 صوبوں میں ان کے ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس میں ان کے 20 اہلکار مارے گئے اور 30 سے زائد زخمی ہیں۔ سعودی عرب نے بھی اس جوابی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مزید کشیدگی نہیں چاہتا، لیکن اپنے دفاع کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔
ناظرین! اس جنگ کے دوران بھارتی میڈیا نے ایک تہلکہ خیز اور پراسرار دعویٰ کیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی حوثیوں کے حملوں سے بچنے کے لیے اسرائیل کی ایک پرانی اور خفیہ ‘آئل پائپ لائن’ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ 254 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن 1960 کی دہائی میں ‘ایران’ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر بنائی تھی! اس کا مقصد ایرانی تیل کو نہر سویز کے بجائے اسرائیل کی ایلات بندرگاہ سے اشکلون تک پہنچانا تھا۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اب اسرائیل اسی پائپ لائن کو استعمال کر کے بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے بچ کر تیل کو یورپ منتقل کر سکتا ہے، تاہم یہ ایک انتہائی حساس سیاسی اور سیکیورٹی مسئلہ ہے۔
ویوورز! دوسری جانب جنگ کی آگ برابر بھڑک رہی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اردن میں امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں (جنہیں امریکی فوج نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے) اور آبنائے ہرمز میں 3 آئل ٹینکرز کو روک لیا ہے، جس سے عالمی منڈی میں خام تیل 2 ڈالر مہنگا ہو گیا ہے۔ اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ان کا مشترکہ ہدف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
اور آخر میں ناظرین، امریکا اور متحدہ عرب امارات نے مل کر دنیا کی پہلی ‘اے آئی ٹاسک فورس’ بنانے کا اعلان کر دیا ہے! ‘ٹیلن سینیپس’ نامی یہ ٹاسک فورس ابوظبی میں قائم ہوگی، جس میں 20 امریکی اور اماراتی ماہرین مل کر انٹیلی جنس اور سیکیورٹی کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید ترین نظام تیار کریں گے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران سے براہِ راست جنگ جاری ہے اور امارات بھی ایرانی میزائلوں کی زد میں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے اس بدلتے ہوئے نقشے کی ہر سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں