0

شہید سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای کی نمازجنازہ کون پڑھائےگا؟

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کون پڑھائے گا  اس حوالے سے تاحال سرکاری طور پر کوئی واضح اعلان نہیں کیا گیا۔ 

یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ تہران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ پڑھانے والی شخصیت ایک ہی ہوگی یا مختلف ہوں گی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی نماز جنازہ آیت اللہ جعفر سبحانی پڑھائیں گے۔

تاریخی لحاظ سے دیکھیں تو یہ ضروری نہیں کہ سپریم لیڈر کے انتقال کی صورت میں ان کی نماز جنازہ نئے سپریم لیڈر ہی نے پڑھائی ہو۔

3 جون 1989 کو جب ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کا انتقال ہوا تو 6 جون کو ان کی نماز جنازہ سید محمد رضا گُلپائیگانی نے پڑھائی تھی، وہ حوزہ علمیہ قم کے سرپرست تھے۔

آیت اللہ خمینی کی نماز جنازہ جس وقت سید محمد رضا گُلپائیگانی پڑھا رہے تھے تو آیت اللہ خامنہ ای صف اول ہی میں ان کے بالکل دائیں جانب موجود تھے تاہم اس وقت تک آیت اللہ خامنہ ای کو سپریم لیڈر منتخب نہیں کیا گیا تھا۔

رہبر اعلیٰ کے طور پر آیت اللہ خامنہ ای کا انتخاب 6 اگست 1989 کو یعنی آیت اللہ خمینی کی نماز جنازہ کے ٹھیک دو ماہ بعد ہوا تھا۔

امریکا اور اسرائیل کے  28 فروری کو مشترکہ حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے سبب 8 مارچ کو یعنی تقریباً ایک ہفتے ہی میں نئے سپریم لیڈر کا چناؤ کرلیا گیا تھا تاہم شہید سپریم لیڈر کی فوری تدفین نہیں کی گئی تھی۔

جزوی جنگ بندی کے دور میں آیت اللہ خامنہ ای کو سپرد خاک کرنے کی تاریخوں کا اعلان کیا گیا ہے تو آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای بطور سپریم لیڈر موجود ہیں۔

کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے شہید والد کی نماز جنازہ ادا نہ کریں؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی زندگی کوانتہائی خطرہ لاحق ہے، ان سے اہم امور میں رہنمائی لی جارہی ہے مگر اسکا طریقہ ظاہر نہیں کیا گیا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ منصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے کسی ایک بھی غیرملکی شخصیت سے بلمشافہ ملاقات نہیں کی۔

نئے سپریم لیڈر کی زندگی کوخطرات کی کئی ٹھوس وجوہات ہیں، ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ایران میں امریکا اپنے اعلان کردہ ہدف رجیم چینج میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

86 برس کے خامنہ ای کی جگہ ان کے 56 سالہ بیٹے نے جانشینی سنبھالی اور معزول شہنشاہ پہلوی کا خاندان ہاتھ ملتا رہ گیا، ایران کے حصے بخرے بھی نہ ہوئے۔

اس برس حج کے موقع پرایرانی حاجیوں کو جاری پیغام میں نئے سپریم لیڈر نے کہا تھا کہ اللہ اکبر کا نعرہ ایسا ہتھیار تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی دل سوز شہادت کے باوجود ایرانی قوم نے شاندار فتح سے دنیا کو حیران کردیا اور جیسے شیطان کو کنکریاں ماری جاتی ہیں، اس جنگ میں ایران نے امریکا اور اسرائیل کو اپنے میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بناکر شکست سے دوچار کیا۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ باتیں کہنے والے نئے سپریم لیڈر سے ملاقات کا ارادہ تو ظاہر کیا تھا مگر اگلے ہی روز وضاحتیں دینے پر بھی مجبور ہوگئے تھے اور مستقبل میں ایسی کسی بھی ملاقات کو مشروط کردیا تھا۔

یہ وہی امریکا کے سپریم کمانڈر ہیں جن کی فوج نے ایران کی مجلس خبرگان کے قم اور تہران میں دفاتر کو اُس روز نشانہ بنایا تھا جب اس کے اراکین آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کو سپریم لیڈر چُننے کیلئے جمع ہونا تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ چناؤ کا زیادہ تر عمل ورچوئل انجام دیے جانے کے سبب اراکین محفوظ رہے تھے۔

اس پس منظر کے سبب ایرانیوں کے خدشات بجا ہیں کہ دشمن نئے سپریم لیڈر اور آیت اللہ خامنہ ای کے جلوس جنازہ کو بھی ہدف بناسکتا ہے۔

نمازجنازہ کے اجتماعات 4 سے 6 جولائی تک تہران میں اور 7 جولائی کو قم میں ہوں گےجب کہ 8 جولائی کو جسد خاکی عراق لے جایا جائے گا جہاں نجف اور کربلا میں نماز جنازہ کے اجتماعات کے بعد اسی شب میت واپس لائے جانے کا پروگرام ترتیب دیاگیا ہے۔

9 جولائی کو آخری نماز جنازہ مشہد میں ادا کی جائے گی اور پھر وہیں ان کی تدفین کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی متوقع شرکت کے موقع پر نئے سپریم لیڈر کی سکیورٹی یقینی بنانا بہت بڑا چیلنج ہوگا  کیونکہ عوام نہ صرف شہید لیڈر کا آخری دیدار کرنا چاہتے ہیں بلکہ نئے سپریم لیڈر کی جھلک بھی دیکھنے کو بے تاب ہیں۔

امکان یہی ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی سکیورٹی ان کے عوامی دیدار پر مقدم رکھی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں