گرفتار خارجی سہولت کار مفتی ظفریاب نے بتایا کہ اس نے درس نظامی 8 سالہ جامع نظام العلوم شعبہ یتیم خانہ بنوں شہر سے حاصل کی اور پھر 3 سالہ تخصص فی الفقہ المرکز اسلامی غوری والہ سے حاصل کیا۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دوران تفتیش خارجی سہولت کار مفتی ظفریاب نے انکشاف کیا کہ اس کے خارجی کمانڈر حکمت روشان کے ساتھ رابطے تھے اور ریاستی اداروں کو میرے رابطوں کا علم تھا اور انہوں نے نے مجھے گرفتار کیا۔
گرفتار سہولت کار نے بتایا کہ خارجی کمانڈر حکمت روشان جہاد کے نام پربھتہ خوری سے متعلق مجھ سے غیر شرعی فتوے حاصل کرتا تھا، خارجی کمانڈر حکمت روشان مجھ سمیت مختلف افراد کو عہدوں اور مالی فوائد کی پیشکش بھی کرتا تھا۔
گرفتار خارجی سہولت کار نے کہا کہ میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں، فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ غیراسلامی اور غیر شرعی ہیں، یہ لوگ غیراسلامی نظریات رکھتے ہیں اور مسلمانوں کا قتل جائز قرار دیتے ہیں۔
