0

کراچی میں رینجرز اہلکار کے قتل کا معمہ حل، صومالیہ میں یرغمال پاکستانیوں کی رہائی تاحال تعطل کا شکار، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری کی سزا معطلی کی درخواست قابلِ سماعت قرار دے دی۔

پاکستانی منظرنامے پرآج کی بڑی خبروں پرایک نظرڈالتے ہیں ۔۔
سب سے پہلے بات کریں گے کراچی میں قتل ہونےوالے رینجرزاہلکارکےقاتل کی ،،جس کاانکشاف ہوتےہی ہرطرف تھرتھلی مچ گئی ہے،،کراچی میں رینجرز اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جو کہ ایک پولیس افسر کابیٹاہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق کراچی کے علاقے لیاری میں رینجرز اہلکار کے قتل میں ملوث ملزم ساحل کو گرفتار کرلیا گیا ہے،جو واقعہ کے بعد بلوچستان فرار ہوگیا تھا۔ ڈی آئی جی نے بتایا کہ ملزم پولیس افسر کا بیٹا ہے اور رینجرز اہلکار کے قتل کی وجہ ذاتی عناد نکلی، ملزم نے پوری منصوبہ بندی اور ریکی کے بعد رینجرز اہلکار کو قتل کیا۔واضح رہے کہ رینجرز اہلکارعبدالقیوم کو 18 جولائی کو لیاری میں فائرنگ کرکے شہید کیا گیا تھا۔
صومالیہ میں اغواء کیے گئے بحری جہاز اور اس پر سوار پاکستانی عملے کی رہائی کے لیے 94 روز گزرنے کے باوجود کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔رہنما برائے انسانی حقوق انصار برنی کے مطابق بحری قزاقوں نے پاکستان کے 10 مغویوں کے اہلِ خانہ سے رابطہ بھی منقطع کر دیا ہے جس کے باعث خاندان شدید تشویش میں مبتلا ہیںانصار برنی نے بتایا ہے کہ بحری قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے بدلے 30 لاکھ ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا ہے
اور۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹوئٹس کیس میں ٹرائل کورٹ سے سزا یافتہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اعظم خان نے محفوظ فیصلہ جاری کرتے ہوئے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق پراسیکیوشن کی متفرق درخواست مسترد کر دیعدالت نے گزشتہ روز فریقین کے دلائل سننے کے بعد پراسیکیوشن کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں