0

پرتگال نے امیگریشن پالیسی میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے رہائشی اجازت ناموں کی تعداد میں نمایاں کمی کر دی

پرتگال کی حکومت نے امیگریشن پالیسی میں اہم تبدیلیاں کرتے ہوئے رہائشی اجازت ناموں کی تعداد میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ وزیرِ صدارت کے مطابق 2025 میں اگرچہ 70 ہزار ورک ویزے جاری کیے گئے، جو گزشتہ برسوں سے کہیں زیادہ ہیں، مگر 2023 کے مقابلے میں ریزیڈنس پرمٹس کی تعداد میں 60 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بے قابو امیگریشن کو روکنا اور منظم، قانونی اور باعزت ہجرت کو فروغ دینا ہے۔ اسی سلسلے میں “ایکسپریشن آف انٹرسٹ” جیسے آسان داخلے کے طریقہ کار کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ امیگریشن کے عمل کو قونصل خانوں کے ذریعے باقاعدہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2023 میں تین لاکھ سے زائد رہائشی اجازت نامے دیے گئے تھے، لیکن 2025 میں یہ تعداد واضح طور پر کم ہو گئی ہے۔ سوشل سیکیورٹی رجسٹریشن میں بھی نمایاں کمی آئی ہے، جو حکومت کے مطابق امیگریشن کے بہاؤ میں کمی کا ثبوت ہے۔گزشتہ دو برسوں میں حکومت نے ایسے قانونی طریقے ختم کر دیے جو پرتگال میں آسان داخلے کا ذریعہ بنتے تھے، مثلاً “ایکسپریشن آف انٹرسٹ” کا نظام۔ اس کے علاوہ پبلک سیکیورٹی پولیس (PSP) میں نیشنل فارنرز اینڈ بارڈرز یونٹ قائم کی گئی اور امیگریشن کے عمل کو قونصلر نظام کی طرف منتقل کرنے کے لیے 50 نئے ٹیکنیشنز بھرتی کیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں 14 ہزار ورک ویزے جاری ہوئے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر 70 ہزار ہو گئی۔ تاہم 2023 میں 3 لاکھ 28 ہزار رہائشی اجازت نامے دیے گئے تھے، جو 2024 میں کم ہو کر تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار رہ گئے، اور 2025 میں یہ تعداد 2023 کے مقابلے میں 60 فیصد سے بھی کم ہو گئی۔

سوشل سیکیورٹی رجسٹریشن میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ 2023 میں ماہانہ اوسطاً 42 ہزار نئے اندراج ہوتے تھے، جو 2025 میں کم ہو کر اس کا ایک چوتھائی رہ گئے۔وزیر کا کہنا ہے کہ ملک کو افرادی قوت کی ضرورت ضرور ہے، مگر ایسا نظام قبول نہیں کیا جا سکتا جس میں سستی لیبر کے نام پر امیگرنٹس کا استحصال ہو۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو کمپنیاں بیرونِ ملک سے کارکن بلائیں گی، انہیں رہائش، تربیت، انشورنس اور سماجی انضمام کی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں