0

بھارت کےبعد نپاہ وائرس نے بنگلہ دیش کارخ کرلیا، خطے کےدیگرممالک  کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی

بھارت کےبعد نپاہ وائرس نے بنگلہ دیش کارخ کرلیا، خطے کےدیگرممالک  کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی بج گئی ،،بنگلہ دیش میں نپاہ وائرس سے متاثرہ خاتون جاں بحق،  خاتون میں 21 جنوری کو وائرس کے علامات ظاہر ہوئیں تھیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے تصدیق کردی ،متاثرہ خاتون کی عمر تقریباً 40 تا 50 سال تھی اور وہ ناوگان ضلع کی رہائشی تھی، خاتون میں 21 جنوری کو نِپاہ وائرس کے علامات ظاہر ہوئیں، جن میں بخار، سردرد، زیادہ تھوک آنا، الجھن اور دورے شامل تھے  خاتون ایک ہفتے بعد انتقال کر گئی خاتون نے حال ہی میں کچے کھجور کے رس کا استعمال کیا تھا اور اس کا کوئی سفر کا ریکارڈ نہیں تھا خاتون سے رابطے میں آنے والے تمام 35 افراد کی نگرانی کی جا رہی ہے رپورٹس کے مطابق بنگلادیش میں 2001 سے اب تک تقریباً 348 نِپاہ وائرس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں، جن میں سے نصف کیسز ایسے افراد میں ہوئے جو کچے کھجور کے رس کا استعمال کر چکے تھے، وائرس کے شکار افراد میں شرح اموات 40 فیصد سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق نِپاہ وائرس کی کوئی مخصوص ویکسین یا دوائی دستیاب نہیں ہے اور یہ وائرس زیادہ تر چمگادڑ سے انسانی منتقلی کے ذریعے پھیلتا ہے، خصوصاً آلودہ پھل یا کھجور کے رس کے ذریعے۔ملائیشیا، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، سنگاپور اور پاکستان سمیت متعدد ممالک نے ہوائی اڈوں پر درجہ حرارت کی نگرانی شروع کر دی ہے۔ سنگاپور نے مغربی بنگال سے آنے والے مزدوروں کے لیے 14 دن تک روزانہ درجہ حرارت اور علامات کی نگرانی لازمی کر دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں