ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ “آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج کی اجازت کے بغیر آمدورفت ناممکن ہے ، جس کے باعث جہازوں کی بڑی تعداد اب بھی پھنسی ہے۔تفصیلات کے مطابق آبنائے ہرمز میں سمندری آمد و رفت کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جہاں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس اہم بحری گزرگاہ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے بتایا آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی پھنسی ہوئی ہے اور ایرانی افواج کی اجازت کے بغیر کسی بھی قسم کی آمد و رفت ممکن نہیں ہوگی۔ سی این این’ کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کی “اسمارٹ مینجمنٹ” کی جا رہی ہے، جو کہ حالیہ مذاکراتی نکات کا اہم حصہ ہے۔رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس حقیقت کو قبول کر لیا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول ایران کے پاس رہے گا۔میرین ٹریفک کے اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ فی الحال عام بحری جہازوں کو اس راستے سے گزرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، تاہم دوپہر کے وقت دو ایرانی اور ایک چینی آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔
