0

معاہدےکا مطلب یہ نہیں کہ امریکی اور اسرائیلی جرائم بھول جائینگے یا معاف کردینگے، ایران

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نےکہا ہےکہ  ایرانی عوام پر اسرائیلی اور امریکی مظالم کو نہیں بھولیں گے، معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہےکہ ہم جرائم کو معاف کردیں گے یا بھول جائیں گے۔

تہران میں پریس  بریفنگ میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ایران  اور  امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا میکنزم آج یا کل فائنل کیا جائےگا، پھر اس کا اعلان ہوگا، ایم او یو  پر دستخط جمعےکو جنیوا میں ہوں گے، جینیوا میں دستخط کی تقریب سے پہلے ایرانی حکام پڑوسی ممالک کے دورے کریں گے،جنگ لبنان  سمیت تمام محاذوں پر ختم  ہونی چاہیے، لبنان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے، لبنان کے خلاف جارحیت کا خاتمہ، اس کی خود مختاری  اور علاقائی سالمیت کا احترام  بھی مفاہمتی یادداشت کا بنیادی  حصہ ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران، عمان  اور دیگر ممالک کے ساتھ آبنائے ہرمز کو محفوظ گزرگاہ  بنانے کے اقدامات کرےگا، میری ٹائم سروس فیس وصول کی جائےگی، یہ ایک مخصوص مدت کے لیے ہوگا اور امریکا کی اپنی ذمہ داریوں اور   وعدوں کے مطابق ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ  معاہدے کے تحت امریکا نے ہرجانےکی ادائیگی اور منجمد اثاثے بحال کرنےکا وعدہ کیا ہے، امریکا معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورےکرنے کا پابند ہے، امریکا کو ایران کے منجمد اثاثے دینے ہیں، امریکا اپنا کوئی پیسا ایران کو نہیں دےگا،منجمد اثاثوں پر ایران کا حق ہے، ایران کو اپنا تیل اور پیٹروکیمیکل برآمد کرنےکی بھی اجازت ہونی چاہیے،  امریکا وعدے پورے کرنے میں ناکام ہوا تو جوابی اقدامات کا سامنا ہوگا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکا نے افزودہ یورینیم ایران سے نکالنےکی ایک بار کوشش کر لی اور اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیا،  معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہےکہ ہم جرائم کو معاف کردیں گے یا بھول جائیں گے، ہم ایرانی عوام پر اسرائیلی اور امریکی مظالم کو نہیں بھولیں گے، ہم نہیں بھولیں گےکہ ہم نے بڑی تعداد میں اپنی قیادت کھوئی، ایرانی عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے، عالمی ادارے ایران پر امریکا اور صیہونی جارحیت کی مذمت کرنے میں ناکام رہے، امریکی حکومت کو ایرانی عوام کا بھروسہ دوبارہ حاصل کرنے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں