ناظرین۔۔
اللہ نے پاکستان کوبہت عزت اور شان سے نوازاہے اورپاکستان کی کوششوں سے امن کاعالمی معاہدہ پایہ تکمیل کوپہنچ گیاہے اورجمعہ کو جنیوامیں پاکستان کی میزبانی میں ایران اورامریکا کےدرمیان امن معاہدہ طےپائےگا،،
ناظرین یہ خوشی اورفخرکالمحہ ہے،یہ عزت اورمان کی گھڑی ہے اوردنیا میں موجود ہرپاکستانی کیلئے سراٹھاکرچلنے کامقام ہے۔۔۔
معاہدہ کب اورکہاں ہوگا،،اس حوالےسے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ جمعے کو جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ دنیا نے امن کا تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے، جنگ کی تاریک رات کے بعد امن کا سورج طلوع ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائی کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے، پاکستانی قوم سمیت پوری عالمی برادری کو اس کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اسپیکر صاحب آپ کو، اس ایوان کے ہر رکن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ صرف 2 ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں، بلکہ امن اور مکالمے کی فتح ہے، یہ سفارت کاری کی کامیابی ہے اور جنگ کی تباہی کا خاتمہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس معزز ایوان کے حوالے سے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، ایرانی صدر اور امن عمل میں شریک دونوں ٹیمز کے تمام ممبران کو مبارکباد دیتا ہوں، فریقین نے مشکل حالات میں تدبر، دانش اور صبر کا ہاتھ نہ چھوڑا۔
اب رخ کرتےہیں اسرائیل کا،،جہاں اس امن معاہدے پرکہرام مچاہواہے،، اسرائیلی انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر بن گویر نے ایران امریکا معاہدے کی مذمت کی ہے،،یہ وزیر انتہاپسندی کیلئے بدنام ہے اورمسلم دشمنی کا ہرموقع پراظہارکرتاہے،،فلسطینیوں کےحوالےسے خصوصی تعصب رکھتاہے،،وزیرکاکہناہے،، ٹرمپ کا معاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا، ہم اس معاہدے میں پارٹی نہیں ہیں، یہ معاہدہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم حزب اللّٰہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی بھی چیز پر مطمئن نہیں ہو سکتے۔بن گویر نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ زمین کے 1 انچ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔اسرائیلی تجزیہ کاروں نے معاہدے کو ایران کی مکمل فتح اور اسرائیل کی بدترین شکست قراردیاہے
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے ایک نئے معاہدے کا اعلان سامنے آنے کے بعد واشنگٹن میں سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ڈیموکریٹس معاہدے، جنگ سے متعلق حاصل اور لاحاصل کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے حامی اس پیش رفت کو بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ معاہدے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے اور ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا جبکہ ڈیموکریٹک رہنماؤں نے معاہدے کی شرائط پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔عرب میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی جانب سے شدید تشویس پائی جا رہی ہے جن کا کہنا ہے کہ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ جنگ کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کیا ہیں اور ایران نے کِن شرائط کو قبول کیا ہے۔
دوسری جانب ۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم کسی بھی طاقت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کریں گے۔ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام کے سامنے خود کو جوابدہ اور ذمہ دار سمجھتے ہیں، قومی مفادات کے تحفظ پر غداری کے الزامات افسوسناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق ذمہ داریاں نبھانے والوں کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے، تنقید معاشرے کا حق ہے مگر شرافت کے تقاضے بھی ضروری ہیں۔
ناظرین۔۔۔ عرب میڈیا کے مطابق جمعے کے روز ایک ابتدائی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوں گے جس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور دیگر اہم معاملات پر 60 دن تک مذاکرات جاری رہیں گے
فٹ بال ورلڈکپ، سوئیڈن نے تیونس کو 1-5 سے شکست دیدی
ویڈیو: فیفا ورلڈکپ 2026 میں بھی جاپانی مداحوں کی صفائی کی روایت برقرار
پی سی بی نے سینٹرل کنٹریکٹس میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 10 ہزار روپے سے زائد کا اضافہ
عمران خان کو انٹرا ویٹریل انجیکشن کی ڈوز لگادی گئی، بیرسٹر گوہر کی تصدیق
ن لیگ نے پی ڈی ایم میں ہماری پیٹھ میں چھراگھونپا، ن لیگ کی حکومت مفلوج ہے: ایمل ولی
معاہدےکا مطلب یہ نہیں کہ امریکی اور اسرائیلی جرائم بھول جائینگے یا معاف کردینگے، ایران
ملک میں محرم کا چاند نظر نہیں آیا، یوم عاشور جمعہ 26 جون کو ہوگا
**آزاد کشمیر احتجاج پر اوورسیز پاکستانی جذباتی، متنازع بیان کے بعد معافی سامنے آگئی۔**
“جنیوا میں تاریخ رقم ہوگی؟ پاکستان کی میزبانی میں ایران امریکا امن معاہدہ، اسرائیل پریشان!”