ایران امریکا جنگ نے ڈالرکی بالادستی کوہلاکررکھ دیا،خطے کےخلیجی ممالک نے نہ صرف مددکیلئے امریکا سے رابطے کرلئے بلکہ مستقبل میں چینی کرنسی میں لین دین کابھی اشارہ دےدیا،،متحدہ عرب امارات نے جنگ کے دوران مالی سہارا حاصل کرنے کے لیے امریکا سے رابطہ کیا ہے، یو اے ای کو ایران جنگ کی وجہ سے بحران کا خدشہ ہے جس پر وہ مالی لائف لائن کے حصول پر غور کر رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اماراتی حکام نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ساتھ اہم ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی صورت حال اور ایران جنگ کے ممکنہ معاشی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی، ایران جنگ طول پکڑنے کی صورت میں ڈالر تک رسائی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔یو اے ای مرکزی بینک کے گورنر خالد محمد بلامہ نے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خزانہ کے حکام سے متعدد ملاقاتیں کیں، اور کرنسی سویپ لائن قائم کرنے کی تجویز پیش کی ۔ امارات کو خدشہ ہے کہ یہ جنگ اس کی معیشت اور عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اس کی حیثیت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو سکتے ہیں اور سرمایہ کار، جو اسے ایک محفوظ مقام سمجھتے تھے، دور ہو سکتے ہیں۔ایران جنگ نے امارات کے تیل و گیس کے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچایا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے، جو ڈالر آمدن کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔
اماراتی حکام نے تاحال باضابطہ طور پر سویپ لائن کی درخواست نہیں دی۔ ایسی سہولت سے مرکزی بینک کو کم لاگت پر ڈالرز تک رسائی ملتی ہے تاکہ وہ اپنی کرنسی کو سہارا دے سکے یا لیکویڈیٹی بحران کی صورت میں ذخائر مضبوط کر سکےاماراتی حکام نے خبردار کیا کہ اگر ڈالر کی کمی ہوئی تو امارات کو تیل کی فروخت اور دیگر لین دین کے لیے چینی یوآن یا دیگر کرنسیوں کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت حال امریکی ڈالر کے لیے بھی ایک بالواسطہ خطرہ ہو سکتی ہے، جو عالمی کرنسیوں میں اپنی برتری بڑی حد تک تیل کی تجارت میں اس کے استعمال کی وجہ سے رکھتا ہے۔
