امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں جاری فٹبال کی دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، اب اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اتوار کو نیویارک کے نیوجرسی اسٹیڈیم میں اس اہم اور بڑے ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا مقابلہ، یعنی فائنل کھیلا جائے گا۔
فائنل تک پہنچنے کا سفر سنسنی خیز مقابلوں اعصاب شکن لمحات اور کئی تنازعات سے بھرپور رہا جنہوں نے دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کو اس خوبصورت کھیل کے سحر میں مبتلا رکھا۔
جہاں اسپین نے پہلے سیمی فائنل میں اس ایونٹ کی سب سے فیورٹ ٹیم فرانس کو شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تو وہیں ایک اور اعصاب شکن مقابلے کےبعد دفاعی چیمپئن ارجنٹینا انگلینڈ کی مضبوط ٹیم کوہراکر مسلسل دوسری بار فائنل میں پہنچ گئی ۔
اب سارے فٹبال شائقین کی نظر اتوار کے اس ہائی وولٹیج مقابلے پر جمی ہوئی ہے جس کا دنیا بھر میں بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے لیکن اس بار فائنل صرف دو ٹیموں کی ٹکر نہیں، بلکہ ایک ایسے عظیم کھلاڑی کی داستان بھی ہے جس کی ثابت قدمی، غیرمعمولی پھرتی، دباؤ میں بھی نہ جھکنے کا حوصلہ، دل موہ لینے والے پاسز، شاندار گولز اور کبھی ہار نہ ماننے والے جذبے نے اس مقابلے کو پہلے سے بھی زیادہ خاص بنا دیا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں شائقین بڑی اسکرینز کے سامنے جمع ہوں گے کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ اتوار کو فیفا ورلڈ کپ میں اس لیجنڈری کھلاڑی کو آخری بار ایکشن میں دیکھیں۔
اگرچہ دفاعی چیمپئن ارجنٹینا نے گروپ مرحلے میں شاندار کھیل پیش کیا، اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کی اور بھرپور اعتماد کے ساتھ ناک آؤٹ مرحلے میں قدم رکھا مگر اس کے بعد نسبتاً آسان سمجھے جانے والے حریفوں کے خلاف بھی ٹیم کو سخت جدوجہد کرنا پڑی۔
ان اعصاب شکن مقابلوں نے ارجنٹینا کی ٹائٹل کی امیدوں پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
ناقدین نے ٹیم کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھائیں، کچھ متنازع فیصلے بھی سامنے آئے ، ارجنٹینا پر تنقید بھی ہوئی لیکن ہر بار جب ایسا لگا کہ ارجنٹینا دباؤ کا شکار ہو جائے گا، ٹیم نے زبردست کم بیک کر کے خود کو دوبارہ ثابت کیا۔
اور اس مسلسل واپسی کے پیچھے اگر ایک نام سب سے نمایاں تھا، تو وہ کسی ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑی کا نہیں بلکہ 39 سالہ لیونل میسی کا تھا۔
وہی لیونل میسی جنہیں دنیا بھر کے کھلاڑی اور فٹبال ماہرین ان کے جادوئی پاسز، دلکش گولز، غیرمعمولی وژن اور کھیل کو دوسروں سے بالکل مختلف انداز میں پڑھنے اور تخلیق کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے تاریخ کے عظیم ترین فٹبالرز میں شمار کرتے ہیں۔
آج بھی، کیریئر کے اس مرحلے پر، لیونل میسی اپنے بے مثال تجربے، قائدانہ صلاحیت اور غیرمعمولی مہارت کے ساتھ ارجنٹینا کی سب سے بڑی امید بنے ہوئے ہیں۔
اس عمر میں بھی ورلڈ کپ جیسے اعلیٰ ترین مقابلے میں اسی معیار کی کارکردگی دکھانا بذاتِ خود ایک غیرمعمولی کامیابی ہے کیونکہ میسی سے پہلے فٹبال کے کئی عظیم ترین نام اس عمر تک پہنچنے سے بہت پہلے ہی بین الاقوامی فٹبال کو خیرباد کہہ چکے تھے۔
مثال کے طور پر برازیل کے عظیم اسٹرائیکر پیلے جو تین فیفا ورلڈ کپ جیتنے والے دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں، وہ بھی 1970 کا ورلڈ کپ جیتنے کے صرف ایک سال بعد 1971 میں محض 30 سال کی عمر میں بین الاقوامی فٹبال سے ریٹائر ہو گئے تھے۔
اسی طرح میسی کے آئیڈل اور ارجنٹینا کے لیجنڈ ڈیگو میراڈونا جنہوں نے 1986 کا ورلڈ کپ اپنی ٹیم کو جتوایا، 1994 کے ورلڈ کپ سے پیش آنے والے واقعات کے بعد صرف 33 برس کی عمر میں بین الاقوامی فٹبال چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
فرانس کو 1998 کا تاریخی ورلڈ کپ جتوانے والے عظیم مڈفیلڈر زین الدین زیدان نے بھی 2006 کے ورلڈ کپ کے بعد 34 سال کی عمر میں انٹرنیشنل فٹبال سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
برازیل کے عظیم اسٹرائیکر رونالڈو نازاریو جنہوں نے دو ورلڈ کپ جیتے تھے اور تین ورلڈ کپ فائنلز کھیلے تھے وہ بھی 2006 کے ورلڈ کپ کے بعد صرف 34 برس کی عمر میں اپنی قومی ٹیم کو الوداع کہہ گئے تھے۔
مگر آج 39 سالہ لیونل میسی نہ صرف اپنے تیسرے فیفا ورلڈ کپ فائنل کی تیاری کر رہے ہیں بلکہ وہ ایک ایسا کارنامہ انجام دینے کے قریب ہیں جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اتوار کو میدان میں اترتے ہی وہ ورلڈ کپ کا فائنل کھیلنے والے دنیا کے معمر ترین آؤٹ فیلڈ کھلاڑی بن جائیں گے لیکن شاید اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ میسی اس ورلڈ کپ میں صرف ایک تجربہ کار سینئر کھلاڑی کے طور پر اپنی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں، بلکہ وہ اب بھی نوجوان، تیز رفتار اور جسمانی طور پر زیادہ مضبوط کھلاڑیوں کے درمیان سب سے نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
چاہے بات گول کرنے کی ہو، گول بنوانے کی ہو، فیصلہ کن پاسز کی ہو، یا کھیل کی رفتار اور سمت بدلنے کی ہو، میسی تقریباً ہر اہم شعبے میں اس ٹورنامنٹ کے نمایاں ترین کھلاڑی بن کر سامنے آئے ہیں۔
اسی لیے صرف مخالف ٹیموں کے لیے ہی نہیں بلکہ خود میسی کے مداحوں کے لیے بھی یہ منظر ناقابلِ یقین ہے کہ 39 سال کی عمر میں بھی وہ اسی اعتماد، اسی مہارت اور اسی آسانی کے ساتھ کھیل رہے ہیں جیسے وقت نے ان کی صلاحیتوں کو چھوا ہی نہ ہو۔
اور اعداد و شمار بھی اس ورلڈ کپ میں لیونل میسی کی غیرمعمولی برتری کی گواہی دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر، میسی آٹھ گولز کے ساتھ اس ورلڈ کپ کے ٹاپ اسکوررز میں مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر ہیں۔ فرانس کے 27 سالہ کیلیان ایمباپے نے بھی آٹھ گول کیے ہیں لیکن میسی نے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے لیے چار گول بھی بنائے ہیں، جبکہ ایمباپے کے نام تین اسسٹس ہیں۔
اسی لیے مجموعی گول کنٹریبیوشن کے لحاظ سے میسی سب سے آگے ہیں۔ اسسٹ کی فہرست میں بھی میسی چار اسسٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔ اس کیٹیگری میں صرف فرانس کے 24 سالہ مائیکل اولیسے اُن سے آگے ہیں جنہوں نے پانچ اسسٹس دی ہیں۔
اگر میسی فائنل میں ایک اور گول بنوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ اس فہرست میں بھی مشترکہ طور پر پہلی پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں صرف گولز اور اسسٹس ہی نہیں بلکہ کھیل تخلیق کرنے کے معاملے میں بھی میسی سب سے آگے ہیں۔
انہوں نے اس ورلڈ کپ میں اب تک 25 گول اسکورنگ چانسز تخلیق کیے ہیں جو کسی بھی کھلاڑی سے زیادہ ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کی تقریباً 96 سالہ تاریخ میں بھی 99 چانسز کریئیٹ کرنے کے ساتھ لیونل میسی اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہیں جو ان کے منفرد وژن اور تخلیقی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔
اس کے علاوہ اس ورلڈکپ میں گول کرنے کی کوششوں Goal Attempts اور Expected Goals جیسے اہم اعدادوشمار میں بھی میسی سرفہرست ہیں جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ 39 سال کی عمر میں بھی وہ نہ صرف کھیل کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ مسلسل مخالف دفاع کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھی بنے ہوئے ہیں۔
صرف یہی نہیں، لیونل میسی فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین اٹیکنگ کھلاڑی بھی بن چکے ہیں۔
وہ 21 ورلڈ کپ گولز کے ساتھ تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں جبکہ 12 اسسٹس کے ساتھ ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول بنوانے کا اعزاز بھی انہی کے پاس ہے اور لیونل میسی کی انہی غیرمعمولی صلاحیتوں کی ایک اور جھلک گزشتہ دنوں انگلینڈ کے خلاف کھیلے گئے ہائی وولٹیج سیمی فائنل میں بھی دیکھنے کو ملی۔
یہ 2002 کے بعد پہلی بار تھا کہ ارجنٹینا اور انگلینڈ ورلڈ کپ کے میدان میں ایک دوسرے کے مدِمقابل آئے تھے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان تاریخی رقابت کو دیکھتے ہوئے پہلے ہی اندازہ تھا کہ یہ مقابلہ انتہائی سخت، جذباتی اورجارحانہ ہوگا اور میدان میں بھی کچھ ایسا ہی منظر دیکھنے کو ملا کیونکہ ارجنٹینا اور انگلینڈ کی rivalry صرف فٹبال تک محدود نہیں رہی۔
اس میں وقت کے ساتھ جغرافیائی اور سیاسی عوامل بھی شامل ہوتے گئے، جس کی وجہ سے دونوں ٹیموں کے درمیان ہر مقابلہ محض ایک میچ نہیں بلکہ وقار، تاریخ اور جذبات کی جنگ بن جاتا ہے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ انگلینڈ کے خلاف لیونل میسی کا پہلا ورلڈ کپ مقابلہ تھا۔
اس سے پہلے اپنی شاندار بین الاقوامی کیریئر کے باوجود انہیں کبھی اس روایتی حریف کے سامنے کھیلنے کا موقع نہیں ملا تھا۔
میچ سے پہلے کئی مبصرین اور انگلینڈ کے سابق کھلاڑی ارجنٹینا کی کامیابی کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے تھے۔
ان کا خیال تھا کہ ناک آؤٹ مرحلے میں نسبتاً آسان حریفوں کے خلاف ارجنٹینا کی مشکلات اور 39 سالہ لیونل میسی کی عمر انگلینڈ کے حق میں جائیں گی۔
اسی اعتماد کے ساتھ کئی انگلش پنڈتوں اور شائقین نے اپنی ٹیم کی فتح کے بڑے بڑے دعوے بھی کیے۔ لیکن جب میدان میں فیصلہ کن لمحہ آیا تو لیونل میسی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ انہیں فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں کیوں شمار کیا جاتا ہے۔
سنسنی خیز پہلے ہاف کے بعد دوسرےہاف کے آغاز میں انگلینڈ نے جب پہلا گول کردیا تو اُنہیں لگاکہ اب وہ میچ جیتنے کے کافی قریب ہیں مگر پھر میسی نے اپنا جادو دکھا دیا اور انگلینڈ کو گردن سے دبوچ کراُن کے پنجوں سے جیت چھین لی اور وہ بھی کھیل کے آخری 15 منٹس میں، اور دو گولز بناکر میچ 2کے مقابلے میں ایک گول سے اپنے نام کرلیا۔
صرف یہی نہیں 39 سالہ میسی اس میچ میں انگلینڈ اور خود ارجنٹینا کے نسبتاً نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان سب سے بہتر نظر آئے اور اسی وجہ سے وہ ناصرف میچ کے سب سے بہترین کھلاڑی قرار پائے بلکہ وہ اس عمر میں میچ میں سب سے سب سے ڈسٹینس کور کرنے والے کھلاڑی بھی تھے۔ ساتھ ہی اُنہوں نے اس میچ کے دوران ورلڈکپ کے ایک میچ میں سب سے زیادہ Dribles کا اعزاز بھی اپنے نام کیااور میچ میں 9 Dribbles مکمل کیے۔
اور اب اتوار کو میسی کی ارجنٹینا کا مقابلہ اسپین کی اس ٹیم سے ہوگا جس کے آٹھ کھلاڑی بارسلونا کے لیے کھیلتے ہیں وہی بارسلونا جہاں سے میسی کے فٹبال کیریئرکا آغاز ہوا۔ وہی بارسلونا جہاں سے میسی دنیا کے سب سے بڑے کھلاڑیوں میں سے ایک بن گئے وہی بارسلونا اور اسپین جہاں اُن کے تمام بچے پیداہوئے اور ایک موقع پر تو وہ اسپین کےلیے کھیلنے کےبھی اہل تھے اور وہ اب بھی اسپین کو اپنا گھر قراردیتے ہیں۔
اسپین اور بارسلونا میں بھی میسی کو ایک کھلاڑِی سے بڑھ کرچاہا جاتا ہے جبکہ اس میچ کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہےکہ 39 سالہ میسی کو اپنے سابق کلب بارسلونا کے اسٹار کھلاڑی 19 سالہ لامین یمال کا سامنا ہوگااور حیران کن طورپر لامین یامال اور لیونل میسی کی ایک 20 سال پرانی تصویر اس موقع پر کافی زیادہ مشہور ہورہی ہے اور تصویر کی کہانی بھی کافی دلچسپ بلکہ افسانے کی طرح لگتی ہے کیونکہ آج سے 20 سال پہلےدسمبر 2007میں جب میسی 19 نمبرکی شرٹ کے ساتھ بارسلونا اور ارجنٹینا کے ایک اُبھرتے ہوئے ستارے تھے تو اُس وقت یونیسیف اور بارسلونا فاؤنڈیشن نے ایک فوٹو شوٹ کا انعقاد کیاتھا اور یہ تصویر لینے والے فوٹوگرافر کے مطابق یہ فوٹو شوٹ ایک فلاحی مہم کا حصہ تھا جس کے لیے مقامی خاندانوں میں قرعہ اندازی کی گئی تھی۔
اتفاق سے لامین یمال کے والدین کا انتخاب ہوا اور اُن کے صرف چھ ماہ کے بیٹے کو اُس وقت بارسلونا کی فرسٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنانے والے نوجوان لیونل میسی کے ساتھ فوٹو شوٹ کے لیے منتخب کیا گیا۔
اس وقت شاید کسی نے بھی تصور نہیں کیا تھا کہ نوجوان لیونل میسی کی بانہوں میں موجود یہی ننھا بچہ ایک دن عالمی فٹبال کے سب سے روشن ستاروں میں شمار ہوگا، یا یہ تصویر فٹبال کی تاریخ کی یادگار ترین تصاویر میں سے ایک بن جائے گی۔
وقت گزرا، اور لامین یمال نے بھی بارسلونا کی مشہور لا ماسیا اکیڈمی سے ہی اپنی فٹبال کی تربیت حاصل کی، وہیں سے جہاں سے لیونل میسی نے اپنے خوابوں کی تعبیر کا سفر شروع کیا تھا۔
آج یامال نہ صرف بارسلونا بلکہ اسپین کی قومی ٹیم کے بھی سب سے نمایاں ابھرتے ہوئے ستاروں میں شمار ہوتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اسپین کےلیے شرٹ نمبر 19 پہنتے ہیں، یہی نمبر میسی نے بھی اپنے ابتدائی دنوں میں پہنا تھا۔
اب قسمت نے ایک بار پھر دونوں کو ایک ہی اسٹیج پر لا کھڑا کیا ہے۔
اتوار کو ہونے والا ورلڈ کپ فائنل ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقلی کی علامت بھی بن سکتا ہے۔ ایک طرف 39 سالہ لیونل میسی ہیں، جو اپنے شاندار کیریئر میں ایک اور ورلڈ کپ ٹائٹل کا اضافہ کرنے کے خواہاں ہیں جبکہ دوسری جانب 19 سالہ لامین یمال ہیں جو اپنے کیریئر کے پہلے ورلڈ کپ فائنل میں تاریخ رقم کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔
