0

پمز اسپتال سانحہ، آگ لگنے سے 14 نومولود جاں بحق، انتظامی غفلت پر سنگین سوالات

اسلام آباد کے پمز اسپتال میں انتظامی غفلت، روایتی بے حسی اور عملے کی کاہلی 14 خاندانوں کی خوشیاں نگل گئی۔ بدھ کی صبح 6 بج کر 45 منٹ پر گائنی وارڈ کی نرسری میں ایئرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ اسپتال حکام کے مطابق اس وقت نرسری میں 15 بچے موجود تھے، جن میں سے ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر صرف ایک بچے کو بچا سکی، جبکہ 14 نومولود جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔

اس سانحے نے ہیلتھ کیئر سسٹم کا بھیانک چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پمز جیسے بڑے اسپتال کے پاس فائر سیفٹی کا این او سی سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اسپتالوں کو لائسنس جاری کرنے والی ‘اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی’ (IHRA) کے اپنے دفتر میں فائر سیفٹی کے انتظامات ناقص ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اتھارٹی فائر ڈیپارٹمنٹ کے این او سی کے بغیر ہی محض پرانی ٹریننگ تصویروں کے سہارے اسپتالوں کے لائسنس کی تجدید کر دیتی ہے۔ سی ڈی اے کی جانب سے فائر سیفٹی کے بغیر سرٹیفکیٹ نہ دینے کے حوالے سے لکھے گئے دو خطوط کا بھی اتھارٹی نے آج تک کوئی جواب نہیں دیا۔

دوسری جانب، سانحے میں جاں بحق ہونے والے تمام 14 بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ تاہم، غم سے نڈھال لواحقین نے اسپتال انتظامیہ کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی میتیں بغیر شناخت کیے ہی ان کے حوالے کر دی گئی ہیں، جس پر انہوں نے بچوں کی درست شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

اسلام آباد کے اس دلخراش سانحے کے بعد پنجاب حکومت بھی جاگ گئی ہے۔ ترجمان محکمہ ہاؤسنگ پنجاب کے مطابق صوبے بھر کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کے اطراف فائر ہائیڈرنٹس بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 57 سرکاری اسپتالوں کی فہرست تیار کر لی گئی ہے اور واسا کو اہم مقامات کی نشاندہی کر کے فائر ہائیڈرنٹس تعمیر کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں