ناظرین! مشرقِ وسطیٰ میں بچھائی گئی جنگ کی بساط پر اب پرانے اتحادیوں کے درمیان دوریاں اور امریکی ایوانوں میں شدید اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! اس وقت کی سب سے بڑی اور حیران کن خبر یہ ہے کہ امریکا نے اپنے دیرینہ اتحادی سعودی عرب کو تنہا چھوڑنے کا اشارہ دے دیا ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کی تہلکہ خیز رپورٹ کے مطابق، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمعرات کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ حوثی گروپ باب المندب آبنائے کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے، اس لیے امریکا ان کے خلاف فوری فوجی کارروائی کرے۔ لیکن ناظرین، صدر ٹرمپ نے یہ درخواست دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دی ہے! امریکی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن کا فی الحال حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کا کوئی منصوبہ نہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ صرف بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی جیسے اپنے قومی مفادات پر توجہ دے رہے ہیں۔ امریکا نے سارا بوجھ سعودی عرب پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شراکت داروں کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ امریکا صرف انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کا ڈیٹا فراہم کرے گا۔
ناظرینِ گرامی! دوسری جانب ایران اور امریکا کی جنگ میں بیانات اور تردیدوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ دنوں یہ خبریں گرم تھیں کہ اردن کے مؤفق السلطی ایئر بیس پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں متعدد امریکی فوجی طیارے تباہ ہو گئے ہیں۔ لیکن اب صدر ٹرمپ نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اردن میں امریکی فضائی اڈے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور ان رپورٹس میں ذرہ بھر بھی صداقت نہیں۔ اسی جنگ کے حوالے سے جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں نومبر کے مڈٹرم انتخابات کے پیشِ نظر اس جنگ پر کوئی پچھتاوا ہے؟ تو امریکی صدر نے انتہائی رعونت سے جواب دیا کہ انہیں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لفظ ‘افسوس’ پر یقین ہی نہیں رکھتے اور اگر انہیں دوبارہ موقع ملے تو وہ بالکل وہی فیصلہ کریں گے جو انہوں نے کیا ہے۔
لیکن ویوورز! ٹرمپ بھلے ہی ہٹ دھرمی دکھا رہے ہوں، ان کے اپنے ملک اور کانگریس میں اس جنگ کے خلاف بغاوت عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈ مارکی نے صدر ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس جنگ کو ‘غیر قانونی اور ناقابلِ فتح’ قرار دے دیا ہے۔ سینیٹر مارکی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹا ہے کہ جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے تک جاری رہے گی، جب تک کہ کانگریس مداخلت کر کے جنگ کے لیے فنڈنگ مکمل طور پر روک نہیں دیتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تباہی کو ختم کرنے کے لیے ہم مزید دو سال کا انتظار نہیں کر سکتے۔
ناظرین! حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس جنگ پر صرف اپوزیشن نہیں بلکہ خود ٹرمپ انتظامیہ کے اندر بھی شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایران جنگ کی حکمت عملی اور کامیابی کے امکانات پر بری طرح خوف کا شکار ہیں۔ امریکی میڈیا کے انکشاف کے مطابق، جے ڈی وینس نے مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں موجود امریکی فوجی کمانڈروں سے خفیہ رابطے کیے ہیں اور ان سے ایران جنگ کے زمینی حقائق اور بے لاگ جائزہ مانگا ہے تاکہ پینٹاگون کی اصل پوزیشن کا اندازہ لگایا جا سکے۔
اور آخر میں ویوورز، سفارتی محاذ سے ایک انتہائی اہم اور مثبت خبر آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز، جس کی بندش نے پوری دنیا کی معیشت اور تیل کی سپلائی کو بریک لگا رکھی ہے، اسے دوبارہ کھولنے کے لیے ایک بڑی پیش رفت متوقع ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق، ایران اور خلیج تعاون کونسل (GCC) کے 6 ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان پیر کو عمان کے ساحلی شہر صلالہ میں ایک انتہائی اہم اجلاس ہونے جا رہا ہے۔ عمان کی میزبانی میں ہونے والی اس ملاقات میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور خلیجی رہنما بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے آمنے سامنے بات چیت کریں گے۔
کیا عمان کی یہ سفارتکاری کامیاب ہو کر آبنائے ہرمز کو کھول پائے گی، یا ٹرمپ کی ہٹ دھرمی اس جنگ کو مزید طول دے گی؟ اس بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کی ہر ‘پکی خبر’ جاننے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!
0

