0

ایرانی حملوں سے خلیج میں امریکی تنصیبات کو بھاری نقصان، اہم انکشاف

امریکی محکمہ خارجہ اور یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (USAID) کے تعاون سے تیار کردہ ایک جامع رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 28 فروری سے 30 جون کے دوران ایرانی حملوں کے نتیجے میں خطے میں امریکی افواج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں متعدد امریکی فوجی عمارات اور تنصیبات تباہ ہوئی ہیں، دفاعی گولہ بارود اور میزائل ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے، جبکہ سفارتی مشنز کو ایک سو چوراسی ملین ڈالر (184 ملین ڈالر) کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ بحرین میں بحریہ کے اہم علاقائی مرکز کی تباہی کے بعد اب بحرِ ہند کا جزیرہ ‘ڈیگو گارسیا’ کو سمندری لاجسٹکس کا مرکزی مرکز بنا دیا گیا ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے خطے میں خطرات کے پیشِ نظر عراق اور کویت سے طبی انخلا والے ہیلی کاپٹروں سمیت اہم اثاثے اور تنصیبات منتقل کر دی ہیں۔
ان کشیدہ حالات کے باوجود سفارتی محاذ پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے متضاد بیانات سے گمراہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ جب تک ایران کی تمام شرائط پوری نہیں کی جاتیں، کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔
دوسری جانب، ویانا میں جاری بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے سالانہ اجلاس میں ایک اور تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ ایران نے ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی کو آسٹریا کی جانب سے ویزا جاری نہ کرنے اور اجلاس میں شرکت سے روکے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ ادھر، یمن کے محاذ پر اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے حوثیوں کی جانب سے شہریوں اور شہری املاک کو نشانہ بنائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی افواج ان حملوں کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کا مکمل عزم رکھتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں