0

امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے دوسرے مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں متوقع

مریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی سطح کے دوسرے مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں متوقع

ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے تکنیکی سطح کے وفود کا دوسرا دورِ مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ممکنہ طور پر پیر کے روز ہوگا۔

پاکستانی حکومتی ذرائع نے ترک خبر رساں ادارے انادولو کو بتایا کہ دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں پیر کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گی، جہاں کئی ہفتوں سے جاری تنازع کے حل کے لیے کسی متفقہ مسودے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس تنازع نے عالمی توانائی کی سپلائی اور مشرقِ وسطیٰ میں معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی کسی معاہدے کا مسودہ تیار ہوگا تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اہم عالمی رہنما اسلام آباد پہنچ کر معاہدے پر دستخط کریں گے۔

ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے کے مذاکرات 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں مکمل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری ہے تاکہ اگلے مرحلے سے پہلے زیادہ سے زیادہ اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔

پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے حالیہ دنوں میں تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اس دوران ایران نے آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا تو وہ اس کی دستخطی تقریب کے لیے اسلام آباد جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: “میں پاکستان جا سکتا ہوں، پاکستان نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔ اگر معاہدہ اسلام آباد میں ہوا تو میں ضرور جا سکتا ہوں۔”

ایک پاکستانی حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی اور ایرانی وفود کی آمد کے لیے انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا نمائندگان کی آمد کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔

امریکی میڈیا نے بھی جمعہ کو رپورٹ کیا کہ مذاکرات پیر کو اسلام آباد میں متوقع ہیں، تاہم کسی بھی فریق کی جانب سے باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکراتی وفود اتوار کو اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے، اور یہ فیصلہ لبنان میں جنگ بندی کے تناظر میں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں