ایران امریکاجنگ اور عالمی منظرنامے سے کچھ اہم خبروں پر ایک نظر۔۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محمد مخبرکا کہنا ہے متحد قیادت، باحوصلہ قوم اور مسلح افواج دشمن کے لیے ڈراؤنا خواب ہیں۔محمدمخبر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 9 کروڑ ایرانیوں کے سامنے مخالفین بے بس ہیں، ٹرمپ کے پاس اختلافات کو ہوا دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ ایرانی صدر نےبدنیتی اورناکہ بندی کوحقیقی مذاکرات میں اصل رکاوٹ قرار دیدیا، باقرقالیباف نے کہا کہ امریکی ناکہ بندی میں جنگ بندی بے معنی ہے۔دونوں رہنماؤں نے کہا رہبر معظم انقلاب کی مکمل پیروی کرتے ہوئے جارح کو پچھتانے پر مجبور کردیں گے۔
امریکی فوج کی آبنائے ہرمز میں ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی منصوبہ بندی سامنے آگئی۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز، جنوبی خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان کے اطراف ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا جائے گا، منصوبوں سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ ان ممکنہ حملوں میں تیز رفتار چھوٹی کشتیوں، بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں اور دیگر غیر روایتی عسکری وسائل کو ہدف بنایا جا سکتا ہے جن کی مدد سے تہران ان اہم آبی گزرگاہوں کو مؤثر طور پر بند کرنے اور انہیں امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔
اور۔۔۔۔لبنان کے وزیر اطلاعات پال مورکوس نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تین ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع لبنانی حکومت کی درخواست پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ جنگ بندی میں بنیادی مطالبہ لبنان کے خلاف اسرائیلی حملوں کا خاتمہ تھا، حکومت حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کے لیے فوج کی تعیناتی میں اہم اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے کے لیے اسرائیلی افواج کا ملک سےانخلا ضروری ہوگا۔