0

ایران کا جوابی وار کتنا خطرناک؟ امریکی اڈے، اسرائیل اور خلیجی خطہ سب نشانے پر

ناظرین! مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ ہولناک جنگ اب ایک ایسے تباہ کن موڑ پر آ گئی ہے جہاں جدید ترین میزائلوں اور بے رحم بمباری نے پورے خطے کو جہنم بنا دیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

ویوورز! ایران پر امریکا کے تازہ ترین حملوں میں بھاری جانی نقصان سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزارتِ صحت کے مطابق ان امریکی حملوں میں اب تک 30 افراد شہید اور 200 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکی بمباری کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہرمزگان کے شہر سیرک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا گیا جس میں ایک بچے سمیت 5 بے گناہ شہری شہید ہو گئے۔ اس کے علاوہ، مغربی صوبے کرمانشاہ اور لاوان جزیرے پر حملوں میں پاسدارانِ انقلاب اور بسیج فورس کے 7 اہلکار شہید ہوئے۔ اہواز، چابہار اور عسلویہ کے اہم گیس مراکز پر بھی دھماکے سنے گئے ہیں۔

ناظرینِ گرامی! اس بے رحم امریکی بمباری کے جواب میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے واشنگٹن کو سخت ترین وارننگ دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اب اس جہنم سے کبھی نہیں نکل پائے گا جو اس نے اپنے لیے خود بنائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ، سفارت کاری اور معاشی محاصرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران کی ‘نئی حکمتِ عملی’ امریکی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گی۔

ویوورز! اس نئی حکمتِ عملی اور جنگ میں سب سے اہم کردار ایران کا جدید ترین بیلسٹک میزائل ‘خیبر شکن’ ادا کر رہا ہے۔ اس میزائل کا نام ‘قلعہ شکن’ ہے، جو اسلامی تاریخ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خیبر کے یہودی قلعے کو فتح کرنے اور ‘خیبر شکن’ کا خطاب پانے کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔

ناظرین! یہ میزائل ایران کے میزائل پروگرام کا ایک شاہکار ہے۔ یہ 1450 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کا ٹھوس ایندھن (Solid Fuel) اسے ہنگامی صورتحال میں فوراً لانچ کرنے کے قابل بناتا ہے۔ رواں ہفتے ایران نے اسی ‘خیبر شکن’ میزائل سے اردن کے علاقے ازرق میں امریکی طیاروں کی مرمت کی تنصیب اور ایک نئے کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کو تباہ کیا ہے۔ اس کا مقصد امریکا کو یہ واضح پیغام دینا ہے کہ 6 ماہ کی بمباری کے باوجود ایران کا میزائل ذخیرہ مکمل طور پر محفوظ اور قابلِ استعمال ہے۔

ویوورز! ایران کے پاس میزائلوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے پاس 800 کلو میٹر تک مار کرنے والے فاتح اور ذوالفقار جیسے میزائل ہیں، جبکہ 2000 کلو میٹر تک مار کرنے والے سجیل، حاج قاسم اور خرم شہر سیریز کے میزائل موجود ہیں۔ اس کے علاوہ سومار، قدس اور حویژہ جیسے کروز میزائلوں کی رینج 2500 کلومیٹر تک ہے، جس کا مطلب ہے کہ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں موجود تمام امریکی اڈے ایران کے نشانے پر ہیں۔ موازنے کے لیے، امریکا اس جنگ میں پریسیشن اسٹرائیک اور ٹوماہاک کروز میزائل استعمال کر رہا ہے، لیکن ایران کی جوابی طاقت نے پینٹاگون کے میزائل ڈیفنس سسٹم کے پسینے چھڑا دیے ہیں۔

ناظرین! جنگ کے اس عروج پر، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بار پھر دنیا کو دھمکانا شروع کر دیا ہے۔ فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے وارننگ دی ہے کہ جو ملک بھی ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے اور آمدنی حاصل کرنے میں مدد دے گا، امریکا اس پر بھی سخت ترین پابندیاں عائد کر دے گا۔ ان کا اشارہ روس اور چین کی جانب تھا، لیکن انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی مدد امریکا کو ایران پر کارروائی سے نہیں روک سکتی۔

اور آخر میں ویوورز، اس جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بھی گہرے پڑ رہے ہیں۔ خام تیل کی سپلائی میں ممکنہ خلل کے خوف سے عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل 95.20 ڈالرز اور امریکی خام تیل 90.77 ڈالرز فی بیرل پر آ گیا ہے۔ سرمایہ کار خوفزدہ ہیں کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھی تو دنیا بھر میں تیل کا بحران پیدا ہو جائے گا۔

کیا امریکا اور ایران کی یہ جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، یا خیبر شکن میزائل امریکا کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا؟ اس حوالے سے ہر سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں