آہوں، سسکیوں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا آخری سفر جاری ہے۔ ایران کا ہر شہر سوگ میں ڈوبا ہوا ہے اور لاکھوں ایرانی اپنے رہنما کو الوداع کہنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
تہران اس وقت جدید ایرانی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس گرینڈ مصلّیٰ سے شروع ہو چکا ہے، جہاں گزشتہ دو روز سے ان کا جسدِ خاکی عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق جلوس تقریباً دس کلومیٹر کا سفر طے کرے گا اور دس سے بارہ گھنٹے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ یہ جلوس دماؤند اسٹریٹ، امام حسین اسکوائر، انقلاب اسٹریٹ، آزادی اسکوائر اور دیگر اہم شاہراہوں سے گزرتا ہوا اپنے مقررہ راستے پر آگے بڑھے گا، جس کے بعد جسدِ خاکی کو قم منتقل کیا جائے گا۔
ایک طرف غم کی فضا ہے، تو دوسری جانب “انتقام” کے نعروں کی گونج بھی مسلسل سنائی دے رہی ہے۔ ہزاروں سوگوار سرخ پرچم اٹھائے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی قیادت بھی سخت بیانات دے رہی ہے۔
ایران کے سابق نائب صدر اور سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ ان کے بقول، “ہمارے شہید رہنما کے قاتل اپنے انجام سے نہیں بچ سکیں گے، نظام اور عوام دونوں انصاف کا مطالبہ کریں گے۔”
دوسری جانب ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ذمہ دار عناصر کا تعاقب کیا جائے گا اور ایران کی مسلح افواج نئی قیادت کے تحت اپنے فرائض پوری قوت سے انجام دیتی رہیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران عزت، آزادی اور قومی وقار کے راستے پر قائم رہے گا۔
اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ ہونے والی حالیہ مفاہمتی یادداشت کو ایران اور مزاحمتی محور کی سیاسی کامیابی قرار دیا ہے۔
یمنی حوثی قیادت سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو بالآخر ایران کے اتحادیوں کی حقیقت تسلیم کرنا پڑی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سفارتی کامیابی اسی وقت مؤثر رہتی ہے جب اس کے پیچھے مضبوط دفاعی صلاحیت موجود ہو، کیونکہ کمزوری کی صورت میں مخالفین دوبارہ جارحیت کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای نے پوری قوم کو اتحاد، استقامت اور عوامی خدمت کا راستہ دکھایا۔ ان کے مطابق ایران اپنی ترقی، عزت اور قومی یکجہتی کے سفر کو اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گا۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے بھی سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کو اسرائیل کے خلاف مبینہ منصوبوں کی قیادت کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل میں بھی اگر کوئی ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف اسی نوعیت کی کارروائیوں کی حمایت کرے گا تو اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
جلوسِ جنازہ کے دوران جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل ہر ممکن خطرے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
اس سے قبل اسرائیل کاٹز نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور ممکنہ جانشین سید مجتبیٰ خامنہ ای سے متعلق بھی سخت بیان دیا تھا، جس پر تہران نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تل ابیب کو تحمل کا مشورہ دینے کی بات کی تھی، لیکن اگر اسرائیل نے مزید کسی مہم جوئی کی کوشش کی تو ایران بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایران میں جاری یہ آخری رسومات صرف ایک قومی سوگ کی تقریب نہیں رہیں، بلکہ یہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آنے والے حالات کا بھی ایک اہم امتحان بن چکی ہیں۔
دنیا کی نظریں اس وقت تہران پر جمی ہوئی ہیں۔ سب یہ دیکھ رہے ہیں کہ کیا یہ غم و سوگ کا مرحلہ خطے میں مزید کشیدگی کا پیش خیمہ بنتا ہے یا سفارت کاری ایک بار پھر حالات کو سنبھالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ آنے والے دن نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
